Al-Risala · April 1995 · page 43

How to present Islam : A rational approach

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳

ہیں ۔ مگر یہ الزام خود مسلم پریس پر اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر چسپاں ہوتا ہے۔ مسلم پریس اچھی خبروں کو نمایاں نہیں کرتا۔ وہ صرف ان خبروں کو مبالغہ آمیز انداز میں چھاپتا ہے جو منفی نوعیت کی ہیں۔ مسلم پریس کی اس منفی رپورٹنگ نے ساری دنیا میں مسلمانوں کے ذہن کو اس طرح بگڑاڑاہے کہ وہ مثبت طرزِ فکر سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔

اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ صحابہ کرام ایک بار کسی علاقہ میں پیش قدمی کر رہے تھے ۔ اس دوران انھیں ایک قلعہ کا محاصرہ کرنا پڑا۔ مگر انھوں نے پایا کہ محاصرہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ لمبی مدت تک قلعہ کا محاصرہ کرنے کے باوجود قلعہ فتح نہ ہو سکا۔

محاصرہ کی مدت جب غیر معمولی طور پر طویل ہو گئی تو ایک روز وہ لوگ مشورہ کے لئے بیٹھے۔ مشورہ میں جو بات خاص طور پر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں سے کوئی تعلیم ہم سے چھوٹ گئی ہے۔ اسی لئے قلعہ کی فتح میں ہم کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ چنانچہ تمام لوگ بیٹھ کر یہ سوچنے لگے کہ وہ کون سی اسلامی تعلیم ہے جو ہم سے چھوٹی ہے تاکہ اس پر فوراً عمل شروع کر دیا جائے ۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج اگر مسلم دنیا کے نمائندہ افراد ایک مقام پر جمع ہوں اور اس اسوہ صحابہ کی روشنی میں یہ سوچیں کہ ہم سے کون سی سنت نبوی چھوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم پر موجودہ مصیبتیں آ رہی ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس رائے پر پہنچیں گے کہ ہم سے سنتِ دعوت چھوٹ گئی ہے۔ اس لئے کہ آج ہر سنت مسلمانوں میں دکھائی دیتی ہے مگر واحد سنت جس پر آج عمل مفقود ہے وہ سنتِ دعوت ہے۔ سیرت کانفرنس کا آغاز بوئنا ہوٹل (Buena Park Hotel) میں ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ہوا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ ہال میں ڈیڑھ ہزار کے لئے کرسیاں تھیں، کھڑے ہوئے لوگوں کو ملا کر تقریبا سترہ سو آدمی موجود تھے۔ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں نے تقریریں کیں۔ مقررین کے نام یہ ہیں :

مسٹر منیر اسلم صدر اسلامک سوسائٹی، ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی، ڈاکٹر جعفر عبد السلام

‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues

Printed page