ماہِ الرّسلا اپریل ۱۹۹۵
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۷
یہ غبارے کی ہوا نکل جائے ۔ وہ خاموش ہو کر تیزی سے باہر چلے گئے ــــ میں نے سوچا کہ جھوٹی بہادری ہمیشہ جھوٹی بز دلی پر ختم ہوتی ہے۔
امریکہ میں مسلم نوجوانوں کی ایک انتہا پسند جماعت ہے۔ غالباً یہ لوگ اسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ ان مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے ہیں جو "خلافت" کے لئے کوشش نہ کر رہے ہوں۔ وہ امریکہ میں اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا در اصل خلیفر نیا ہے اور سب سے پہلے اسلامی خلافت یہیں قائم ہوگی۔
اس طرح کی کانفرنسوں میں عام طور پر اہل علم جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں اسٹیج کی تقریریں ہی سب کچھ نہیں ہوتیں۔ یہاں کھانے کی میز پر یا دوسرے مواقع پر جو ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ، ان میں بھی اکثر علمی باتیں جاری رہتی ہیں۔
ایک بار کھانے کی میز پر طرز تحریر کے بارہ میں باتیں ہونے لگیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف باتیں سنائیں۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے بتایا کہ ٹامس جیفرسن کی عادت تھی کہ وہ مختصر خط کرتا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ آپ ہمیشہ مختصر خط لکھتے ہیں۔ ٹامس جیفرسن نے جواب دیا کہ اگر میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تو میں اور بھی مختصر خط لکھتا:
If I had more time, I would have written even shorter letters. نیو یارک کے انگریزی سہ روزہ (The Minaret) کے ایڈیٹر مسٹر محمد عبدالمنعم نے ۲۶ دسمبر کی شام کو انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے تھا ۔ اس سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بہت سے لوگ انڈیا کا ذکر اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کوئی استثنائی ملک ہو اور وہاں مسلمانوں کے لئے ظلم ہی ظلم ہو۔ میں اس قسم کے نظریہ کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں۔ انڈیا میں بھی مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہی مواقع ہیں جو دوسرے لوگوں میں ان کے لئے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے سوسال میں بدقسمتی سے انڈیا میں ایسے مسلم لیڈر آئے جو مسلمانوں کو زندگی کی شاہراہ سے بھٹکاتے رہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے ذہن کو مسائل میں الجھائے رکھا۔ جب کہ صحیح رہنمائی یہ ہے کہ لوگوں کو مواقع کو استعمال کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔
ماہِ الرّسلا اپریل ۱۹۹۵
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues