خبر نامه اسلامی مرکز ۱۰۳
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۵، صفحہ ۴۸
خبر نامه اسلامی مرکز ۱۰۳
اسپین کی راجدھانی میڈرڈ میں ۲۸ - ۳۰ نومبر ۱۹۹۴ء کو ایک انٹر نیشنل کانفرنس ہوئی جس میں عیسائیت، یہودیت اور اسلام کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور وہاں اسلامی نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے ذیل میں رسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
بڑودہ (گجرات) میں ۱۳ نومبر ۱۹۹۴ء کو ایک نیشنل سینار ہوا۔ اس میں پورے ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا موضوع تھا، ریلیجن اینڈ سوسائٹی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اسلامی نقطہ نظر سے خطاب کیا۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔ سوڈیسی بھنڈار سینٹر (نانگلونی) کی طرف سے ۲۰ نومبر ۱۹۹۴ء کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور وہاں ہندؤوں اور مسلمانوں کے ایک مشترک مجمع سے خطاب کیا۔ خطاب کا موضوع تھا - پنچول ویسے لائف۔
۱۹ - ۲۰ نومبر ۱۹۹۴ کو نہرو میوزیم (نئی دہلی) میں ایک سیمینار ہوا۔ سیمینار کا موضوع تعلیمی مدار تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ۱۹ نومبر کی صبح کو اختتامی اجلاس میں ایک تقریر کی۔ دوسری تقریر ۲۰ نومبر کی شام کو ہوئی۔
رائٹر نیوز ایجنسی کے نمائندہ مقیم بمبئی مسٹر جارج فرنانڈیس نے ۲ دسمبر ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلیفون پر لیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ دو سال پورا ہونے کے بعد اب مسلم عوام کے جذبات اجودھیا کی بابری مسجد کے بارہ میں کیا ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اب ہندو عوام اور مسلم دونوں کو امن سے دلچسپی ہے۔ دونوں ہی جھگڑے والی باتوں سے دور ہو چکے ہیں۔
خدا کے فضل سے پریس کے تعاون کے تحت مسلسل اردو، انگریزی، ہندی، تامل، گجراتی اور دوسری زبانوں میں اسلامی تعارف کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلہ میں دہلی کے انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع شدہ مضمون (اسلام ان انڈیا) کا ایک
‹ Previous page Next page › Contents of April 1995 All issues