بارڈر لائن
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۸
بارڈر لائن
۹ نومبر ۱۹۸۹ء کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب دہلی میں میرے کمرہ میں داخل ہوئے۔ تندرست جسم ، شاندار شخصیت ، گفتگو کا انداز نہایت مؤثر ، ان کو دیکھ کر مجھے رشک آیا۔ ان کے واپس جانے کے بعد بھی دیر تک میں ان کے بارے میں سوچتا رہا۔ یہ پاکستان کے مولانا کوثر نیازی تھے۔ انھوں نے میری ڈائری میں اپنا پتہ اور ٹیلیفون نمبر لکھا تو اس میں اپنا نام ” سینیٹر کوثر نیازی “ تحریر کیا۔ اس کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ اخبار کے ذریعہ معلوم ہوا کہ ۱۹ مارچ ۱۹۹۴ء کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے۔ صرف ۵۱ سال کی عمر میں وہ اس دنیا سے چلے گئے۔
لاہور کے روزنامہ نوائے وقت ( ۱۹ مارچ ۱۹۹۴ء) میں ان کے انتقال سے ایک دن پہلے کی تفصیلات پڑھیں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ” مولانا کوثرنیازی جنھیں دماغ کی رگیں پھٹنے کے باعث ، ہسپتال کمپلیکس میں داخل کیا گیا تھا ، جمعہ کو ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کے دماغ کا آپریشن کیا۔ مولانا کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا جا رہا ہے۔ جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی جان بچانے کے لئے مصروف ہے۔ ان پر غشی طاری ہے۔ صدر اور وزیر اعظم نے ان کے لئے گلدستے بھجوائے۔ رات گئے ہسپتال کمپلیکس کے ڈاکٹروں نے نوائے وقت کو بتایا کہ مولانا کی جان بچانے کے لئے انسانی حد تک تمام کوششیں کر رہے ہیں مگر ان کی حالت اس قدر تشویشناک ہے کہ اب وہ بارڈر لائن پر پہنچ گئے ہیں۔ (صفحہ ۵)
غور کیجئے تو ہر آدمی بارڈر لائن پر ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی ہر لمحہ موت کے کنارے ہے۔ کسی بھی وقت اس کی موت آسکتی ہے۔ کسی بھی آدمی کے بارہ میں یہ معلوم نہیں کہ وہ کب تک زندگی کے اس پار ہے اور کب وہ اچانک زندگی کے اُس پار چلا جائے گا۔
میڈیکل ڈاکٹر کسی ایسے ہی شخص کے بارہ میں بارڈر لائن پر ہونے کا اعلان کرتے ہیں جس کا کیس مولانا کوثر نیازی جیسا بن گیا ہو۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر آدمی کا کیس یہی ہے۔ آدمی کو اگر اس سنگینی کا احساس ہو تو وہ جیتے جی اپنے آپ کو موت کے کنارے سمجھے ، زندگی سے زیادہ وہ اپنے آپ کو موت کے قریب کھڑا ہوا پائے۔