Al-Risala · May 1995 · page 9

فتنۂ مال

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۹

فتنۂ مال

محمد صلاح الدین صاحب پاکستان کے معروف صحافی تھے ۔ کراچی سے ان کا ہفت روزہ تکبیر نکلتا تھا۔ وہ اپنے قلم سے سیاسی نشتر کا کام لیتے تھے۔ ان کو پاکستان میں ”بے باک صحافت کا امام“ کہا جاتا تھا۔ ۴ دسمبر ۱۹۹۴ کو کراچی میں گولی مار کر انہیں قتل کر دیا گیا۔ بوقتِ وفات ان کی عمر ۵۶ سال تھی۔ صلاح الدین صاحب کے ایک دوست ڈاکٹر محمد فاروق خاں صاحب، ان کے بارہ میں لکھتے ہیں :

”عمر کا ایک بڑا حصہ انھوں نے کراچی میں ٹین کی چھت والے ایک گھر میں گزارا۔ ان کی ساری زندگی کی کمائی بس ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ تین برس پہلے کی بات ہے، ان کے دفتر سے ان کے گھر تک، ہم ڈیڑھ گھنٹے میں بس کے ذریعہ سے اس طرح پہنچے کہ ہم دونوں سارے راستے میں کھڑے رہے ۔ گھر پہنچے تو ان کی بیٹھک اتنی چھوٹی تھی کہ مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی۔ وفات سے چار دن قبل لاہور میں، ہم سب کھانے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ حلیم ( سالن ) کا ذکر چھڑ گیا تو انھوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ کہنے لگے کہ ایک زمانہ میں ہم سب دوست باری باری دعوت کیا کرتے تھے۔ جب میری باری آئی تو حلیم کی فرمائش ہوئی۔ وہی ٹین کی چھت والے گھر میں احباب جمع تھے۔ ماہر القادری صاحب کھا چکے تو انھوں نے کہا: ارے تم نے یوں ہی اپنی زندگی صحافت میں خوار کر لی۔ اس کے بجائے اگر حلیم کی دو دیگیں صبح و شام پکا کر بیچتے تو اب تک تمہارا بنگلہ بن چکا ہوتا۔ “ ( ماہنامہ اشراق، لاہور ، جنوری ۱۹۹۵ صفحہ ۱۳ )

یہ لطیفہ موجودہ زمانہ کے ایک درد ناک پہلو کو بتاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں علم اور دین کے شعبوں میں مادی فوائد بہت کم ہو گئے۔ اس کے بجائے دنیوی اور مادی شعبوں میں مالی فوائد بے پناہ حد تک بڑھ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اعلیٰ ذہن اور اعلیٰ صلاحیت کے لوگ غیر دینی شعبوں کی طرف بھاگ گئے۔ اور دینی شعبوں میں کام کرنے کے لئے صرف تیسرے درجہ کے لوگ باقی رہے۔ موجودہ زمانہ میں دین کا کوئی اعلیٰ کام نہیں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اعلیٰ کام اعلیٰ صلاحیت کے لوگ کرتے ہیں اور ایسے تمام لوگ اب ”حلیم“ کے کاروبار میں لگ گئے۔

(

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page