انسان کا مستقبل
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۲
انسان کا مستقبل
گیانی ذیل سنگھ ۱۹۱۶ میں راجکوٹ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا باپ ایک غریب بڑھئی تھا ۔ ان کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہوسکی ۔ انھوں نے سیاست میں حصہ لے کر شہرت پائی ۔ ۱۹۴۷ کے بعد وہ منسٹر اور چیف منسٹر بنے۔ آخر میں وہ انڈیا کے صدر مقرر ہوئے۔ اس طرح پنجاب کے ایک جھونپڑے سے زندگی شروع کر کے وہ دہلی کے راشٹرپتی بھون تک پہنچ گئے۔ ۲۹ نومبر ۱۹۹۴ کو ان کی کار کے ساتھ حادثہ پیش آیا ۔ اس کے بعد انھیں چندی گڑھ کے نہرو ہاسپٹل میں داخل کر دیا گیا۔ مگر وہ صحت یاب نہ ہو سکے ۔ ۲۵ دسمبر ۱۹۹۴ کو ان کا انتقال ہو گیا۔ "جھونپڑے" سے زندگی شروع کرنے والا دوبارہ "جھونپڑے" کی طرف لوٹ گیا۔ اخبار میں جس دن میں نے گیانی ذیل سنگھ کی وفات کی خبر پڑھی، اسی دن ایک پرچے میں ایک کارٹون نظر سے گزرا۔ اس میں ایک بوڑھے موٹے آدمی کو کرسی پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا۔ بڑھاپے سے وہ نڈھال ہو رہا تھا۔ کارٹون کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔ میں نے سخت محنت کی اور اتنی دولت اکٹھا کر لی، جو میری تمام ضرورتوں کے لئے کافی ہو۔ مگر اب میں اتنا زیادہ بوڑھا ہو چکا ہوں کہ میں اپنی دولت سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا : I've worked hard. And finally amassed all the money I'll ever need. But I'm too old to enjoy it. یہی ہر انسان کی کہانی ہے۔ آدمی اپنے جسم اور اپنے دماغ کی ساری طاقت خرچ کر کے مادی ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ مگر جب وہ اپنی مادی ترقی کی آخری حد پر پہنچتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترقی اس کے کسی کام کی نہیں۔ ترقیوں کے ڈھیر میں وہ ایک بے ترقی کا کیس بن کر رہ جاتا ہے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا یہ معاملہ، وہ صرف اپنے ماضی اور اپنے حال کا مالک ہے، اپنے مستقبل پر اس کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
اس دنیا میں دولت مندی بھی ویسی ہی ہے جیسے غریبی ۔ یہاں محل کی زندگی بھی اتنی ہی بے حقیقت ہے جتنا کہ جھونپڑے کی زندگی ۔