کمال پیدا کیجئے
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱
کمال پیدا کیجئے
۲۵ مارچ ۱۹۹۲ کو ملبورن میں ورلڈ کرکٹ کپ کا فائنل مقابلہ تھا۔ پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہرا کر ورلڈ کپ جیت ل۔ پاکستان کی ٹیم کو یہ غیر معمولی کامیابی اس کی ٹیم کے کپتان عمران خاں کی قیادت کے تحت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا سے عمران خاں کے لئے مبارک باد کے پیغامات کا سیلاب امنڈ پڑا۔ ٹائمز آف انڈیا یا ۲۶ مارچ) نے اس خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی:
Pakistan rule the world with a flawless display.
اس سلسلہ میں ہندوستان کے مشہور کھلاڑی مسٹر منوج پر بھاکر کا انٹرویو اخباروں میں شائع ہوا ہے ۔ اس کو ویڈیو میگزین اسپورٹس چینل (Sports Channel) نے ریکارڈ کیا تھا۔ مسٹر پر بھاکر نے کہا:
India needed an Imran Khan-like captain to motivate the team. I think there should be some gap like age between the team and captain. You can see the way Imran is doing his job. He is marvellous. We need that type of captain who can be a good leader. That is what we need. Otherwise we have the best team. انڈیا کو عمران خاں جیسے ایک کپتان کی ضرورت ہے جو ہماری ٹیم کو متحرک کرے۔ میرا خیال ہے کہ ٹیم اور کپتان میں عمر کی طرح کچھ فرق ہونا چاہئے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عمران کس طرح اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک حیرت انگیز شخص ہیں۔ ہم کو اسی قسم کے کپتان کی ضرورت ہے جو ایک اچھا قائد بن سکے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ ورنہ ہمارے پاس بہترین ٹیم ہے۔ (ٹائمز آف انڈیا ، ہندوستان ٹائمز ۲۶ مارچ ۱۹۹۲)
انسان کمال کو پسند کرتا ہے۔ کوئی شخص کمال کا مظاہرہ کرے تو دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ کمال موافقت اور مخالفت سے بلند ہو کر اپنے آپ کو منوا لیتا ہے۔ کسی بھی میدان میں اگر آپ کمال پیدا کر لیں تو انسان آپ کی قدر دانی اور اعتراف پر مجبور ہو جائے گا، خواہ بظاہر آپ غیر قوم کے فرد کیوں نہ ہوں۔