Al-Risala · May 1995 · page 14

رجوع واعتراف

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

صور تمام نے ثابت کیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ پہلے کوئی انقلاب برپا کیا جائے تب ہی مذکورہ مقاصد حاصل ہوں گے۔ میں اپنے زمانے میں موریتانیا کے اندر پانچ یا چھ انقلابات دیکھ چکا ہوں۔ یہی حال یمن اور سوڈان کا ہے۔ میں نے حکمرانوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ یمن میں الشعبی، سالم البیض، صالح، علی عنتر ، عبد الفتاح ، النغمی ، الحمدی ، یہ سب میرے معاصر رہے ہیں۔ اسی طرح سوڈان میں مثلاً نمیری تھے ان کے بعد صادق المھدی آئے، پھر سوار الذہب اور سوار الفضہ۔ میرے زمانے میں کئی انقلابات، حکمرانوں کے قتل اور حکومتوں کی تبدیلی کے واقعات ہوئے مگر وہ سب کے سب بے سود ثابت ہوئے۔ جس چیز کو بدلنا اور ترقی دینا ممکن ہے وہ ہمارا موجودہ طریقہ کار ہے تاکہ وہ یورپ کی طرح ہو جائے۔ یعنی اتحاد کے حصول کے لئے (بات چیت کے ذریعہ ) یقین دہانی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس طریقہ کو استعمال کرکے ہم عرب لیگ کے دستور کو بدل سکتے ہیں اور اپنے درمیان ایک اقتصادی اور دفاعی اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ ہر شخص جہاں ہے وہ وہیں رہے ، بادشاہ اپنی جگہ صدر اپنی جگہ ، سلطان اپنی جگہ ۔ کیوں کہ تجربہ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس قسم کی علامتوں کو ہٹانا ہمارے مسئلہ کا حل نہیں۔ جہاں تک جنگِ فلسطین کا معاملہ ہے تو اس سلسلہ میں جنوبی افریقہ کو دیکھئے جہاں جنگ کے بغیر اسی نوعیت کا مسئلہ حل کر لیا گیا۔ جب کہ اس سے پہلے میرا کہنا تھا کہ سفید فام نسل کو نابود کئے بغیر وہ حل ہونے والا نہیں۔ آزادی فلسطین کے لئے بھی ضروری نہیں کہ ہم جنگ چھیڑیں۔ اگر فلسطینی لوگ اپنی سرزمین میں واپس آجائیں اور ان کی ۵ یا ۶ ملین تعداد یہودیوں کے ساتھ ایک جمہوری نظام حکومت میں شرکت پر راضی ہو جائے تو بالآخر ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔ معمر قذافی نے لیبیا کے سابق شاہ ادریس کو ملک کی خرابیوں کا اصل سبب سمجھ اور فوجی انقلاب کے ذریعہ ، ۱۹۶۹ میں ان کا خاتمہ کر دیا۔ مگر انقلاب کے باوجود وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو اس سے متوقع تھے۔ یہی حال اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ ہر انقلاب صرف افراد کی تبدیلی کے ہم معنی ثابت ہوا نہ کہ حالات کی تبدیلی کے ہم معنی۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی حکمراں کو برائی کی علامت قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلانا ایک طفلانہ حرکت ہے۔ اس قسم کی تحریکیں اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف تخریبی تحریکیں ہیں، ان کو انقلابی اور اصلاحی تحریک وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو نہ تاریخ کی خبر ہو اور نہ انسانی نفسیات کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page