عبرتناک
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵
عبرتناک
عراق کے صدر صدام حسین نے ۲ اگست ۱۹۹۰ء کو اپنی فوجیں کویت میں داخل کر دیں اور اس پر قبضہ کر لیا۔ یہ واضح طور پر ایک جارحانہ فعل تھا۔ اس کے بعد ۶ اگست کو بغداد میں امریکہ کے قائم مقام سفیر جوزف ولسن نے صدام حسین سے ملاقات کی اور انھیں امریکی صدر جارج بش کا پیغام پہنچایا۔ امریکی سفیر نے ڈپلومیٹک انداز میں صدام حسین کو متنبہ کیا کہ انھوں نے جارحیت کا فعل کیا ہے۔ کویت سے ان کے جو اختلافات تھے، اس کو انھیں باہمی بات چیت سے حل کرنا چاہئے تھا نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔ صدام حسین اس وقت فاتحانہ جوش میں تھے۔ انھوں نے امریکی سفیر کو جو جواب دیا وہ انگریزی رپورٹنگ میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا تھا: Give my regards to President Bush and tell him that Al-Sabah family has now become history. صدر بش کو میرا سلام پہنچائیے اور ان سے کہہ دیجئے کہ کویت کا شاہی خاندان ال صباح اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ صدام حسین نے اس کے اگلے دن ۷ اگست کو مزید یہ اعلان کر دیا کہ کویت اب کویت نہیں رہا۔ وہ اب عراق کا ۱۹ واں صوبہ ہے۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ۔ اس کے بعد کویت کی درخواست پر امریکہ براہ راست سامنے آگیا۔ اس نے صدام حسین کو وارننگ دی کہ وہ ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ء تک اپنی فوجیں کویت سے نکال کر واپس لے جائیں۔ مگر صدام حسین نے اس الٹی میٹم کو نظر انداز کر دیا ۔ اس کے بعد ۱۷ جنوری ۱۹۹۱ء کو امریکہ نے عراق کے اوپر زبر دست حملہ کیا۔ صدام کی فوجیں اس کے دفاع میں سراسر ناکام رہیں۔ یکم مارچ ۱۹۹۱ء کو یہ جنگ عراق کی بد ترین شکست پر ختم ہوگئی۔
اس کے بعد امریکہ نے چاروں طرف سے عراق کی ناکہ بندی کردی۔ اس ناکہ بندی نے عراق کی اقتصادیات کو تباہ کر دیا۔ چنانچہ صدام حسین نے مجبور ہو کر امریکہ کے تمام مطالبات کو مان لیا۔ آخر کار ۱۰ نومبر ۱۹۹۴ کو صدام حسین کی قیادت میں عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا ۔ اس میں متفقہ طور پر یہ رزو لیوشن پاس کیا گیا کہ عراق ایک آزاد ریاست (independent state) کے طور پر