Al-Risala · January 1995 · page 23

جدال احسن

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۳

ہیں۔ اگر وہ اسلام کے اس اندازِ کلام کو اختیار کر لیں تو اچانک وہ اپنے آپ کو اقدامی پوزیشن میں محسوس کرنے لگیں گے، جب کہ آج وہ خلافِ واقعہ طور پر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں گھرا ہوا پا رہے ہیں۔

ہندوستان میں کچھ انتہا پسند لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندوستانی کا شخص ہندو ہے۔ یعنی فرانس کے شہری کو جس طرح فرخ یا امریکہ کے شہری کو جس طرح امریکن کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے ہر شہری کو ہندو کہا جانا چاہئے۔ اس پر مسلمان غصہ ہوتے ہیں۔ مسلم دانشور اس کا حوالہ دے کر تیز و تند مضامین اخباروں اور رسالوں میں شائع کرتے ہیں۔

مگر یہ جدال غیر احسن ہے۔ اس معاملے میں جدالِ احسن کا طریقہ یہ ہے کہ نزاع کے بجائے اعراض کا انداز اختیار کیا جائے ۔ منفی جواب کے بجائے مثبت جواب دینے کی کوشش کی جائے۔ اگر سوچ کو قرآن کے بتائے ہوئے رخ پر چلایا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا نہایت عمدہ اور مؤثر جواب یہاں موجود ہے۔

راقم الحروف کی گفتگو ایسے ہی ایک انتہا پسند ہندو سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس دیش میں سب کی پہچان صرف ایک ہے، اور وہ ہندو ہے۔ ہندو، کوئی دھارمک شبد نہیں، وہ جغرافی شبد ہے۔ جو لوگ بھی بھارتی جغرافیہ میں بستے ہیں وہ سب کے سب ہندو ہیں۔

میں نے نرمی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہریت کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس کا فیصلہ کانسٹی کرتا ہے۔ مثلاً اس دیش کا نام کیا ہو، اس کو کوئی پارٹی طے نہیں کر سکتی۔ کانسٹی نے دیش کا جو نام مقرر کیا ہے وہی دیش کا نام ہوگا۔ اسی طرح دیش کے شہری کو کیا کہا جائے، یہ بھی ساری دنیا کے مانے ہوئے اصول کے مطابق، کانسٹی کے دائرہ کی چیز ہے۔ اور کانسٹی ٹیوشن ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہمارا موجودہ کانسٹی اس دیش کے باشندوں کو انڈین‘ کہتا ہے۔ آدمی کے پاسپورٹ میں، اس کے قانونی کاغذات میں ہر جگہ اس کی شہریت انڈین ہی بتائی جاتی ہے۔ اس لئے کوئی چاہے یا نہ چاہے، اس ملک کے ہر آدمی کو انڈین ہی کہا جائے گا اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب کہ خود کانسٹی ہی تبدیل کر دیا جائے۔

پھر میں نے کہا کہ اگر کچھ لوگ ہندوستان کے کانسٹی میں اس قسم کی تبدیلی لانا چاہیں تو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page