جدال احسن
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴
یقینی طور پر خود ہندوؤں کی اکثریت اس کی مخالفت کرے گی۔ کیوں کہ یہ بات انٹرنیشنل معیار کے مطابق نہیں۔ کانسٹی ٹیوشن ہمیشہ پڑھے لکھے لوگ بناتے ہیں، اور پڑھے لکھے لوگ اس طرح کے معاملات میں انٹرنیشنل معیار سے باہر جانے کی بات سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیوں کہ ایسا کرنا اپنے آپ کو عالمی اچھوت بنانے کے ہم معنی ہے۔
یہی معاملہ کامن سول کوڈ کا ہے۔ مسلم دانشور اکثر اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہاں بھی جدال احسن کے اصول پر ہمارے پاس نہایت مؤثر جواب موجود ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں مجھ سے اس کی بابت پوچھا گیا۔ میں نے کہا کہ کامن سول کوڈ ہمارے ملک میں صرف اخباری اشو ہے، وہ کوئی حقیقی اشو نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کا سماج مکمل طور پر ایک روایت پسند (tradition-based) سماج ہے۔ جب تک سماجی روایتیں نہ بدلیں، محض قانون بنا دینے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ اس قسم کی چیزیں کبھی قانون کے ذریعہ نافذ نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر ہمارے یہاں اینٹی ڈاؤری قانون موجود ہے۔ مگر اس قانون کے باوجود ڈاؤری بڑھ رہی ہے اور قانون اس کو روکنے سے مکمل طور پر عاجز ہے۔ اگر کامن سول کوڈ کے نام پر کوئی سخت قانون بنا دیا جائے اور اس کے مطابق اس کو لازمی قرار دے دیا جائے کہ تمام فرقوں کے نکاح سرکاری شادی خانہ میں انجام دیے جائیں تو عملی طور پر اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا۔ تمام لوگ پھر بھی اپنے آبائی رواج کے مطابق ہی نکاح کریں گے۔ بالفرض اگر انھیں سرکاری شادی خانوں میں جانے پر مجبور کر دیا جائے تب بھی وہاں سے لوٹنے کے بعد ہند و فوراً پنڈت کو بلا کر پھیر اکروائے گا اور مسلمان قاضی کو بلا کر اس سے نکاح پڑھوائے گا۔ ایسی حالت میں قانون بنانے سے کیا فائدہ۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ملک کے کانسٹی ٹیوشن میں ایک دفعہ کامن سول کوڈ کی موجود ہے۔ مگر یہ کوئی دلیل نہیں۔ کانسٹی ٹیوشن میں اور بھی کئی غیر حقیقی دفعات تھیں (مثلاً پریوی پرس، لیکن آپ جانتے ہیں کہ ترمیم کر کے ان دفعات کو نکال دیا گیا یا بدل دیا گیا۔ اس طرح اب تک کانسٹی ٹیوشن میں ۷۰ سے زیادہ ترمیمات ہو چکی ہیں۔
جدال احسن نزاع کو گھٹاتا ہے اور جدال غیر احسن صرف نزاع کو بڑھانے میں مددگار ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues