سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶
امریکہ میں آپ لوگوں کو جو پیس حاصل ہے وہ ایڈجسٹمنٹ کی قیمت ہے ، اور انڈیا کے مسلمانوں کو جو مسائل درپیش ہیں وہ ایڈجسٹمنٹ نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔
انھوں نے کچھ جواب دینے کی کوشش کی۔ مگر ان کے ایک ساتھی نے یہ کہہ کر انھیں چپ کرا کہ مولانا صاحب صحیح کہہ رہے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ لوگ انڈیا اور پاکستان میں گاڑی چلاتے ہیں تو بار بار ہارن بجاتے ہیں مگر آپ ہی لوگ جب امریکہ کی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہیں تو کبھی ہارن نہیں بجاتے۔ یہی تو وہ کہہ رہے ہیں۔ آپ کو اگر ہمت ہے تو یہاں اسی طرح ہارن بجاکر دیکھ لیجئے۔
۲۷ دسمبر کی شام کو میں صغیر اسلم صاحب کے دفتر میں تھا۔ انھوں نے ایک پیکٹ نکالا۔ اور اس کو مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیلی فورنیا کی کھجور ہے۔ میں نے ایک کھجور ہاتھ میں لی۔ پھر میں نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک بار بھوک کی حالت میں تھے۔ ایک انصاری آپ کو اور چند صحابہ کو اپنے ساتھ لے کر اپنے باغ میں گئے۔ وہاں وہ درخت سے کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ کر لائے اور پانی پیش کیا۔ آپ نے کھجور کھاکر پانی پیا۔ پھر آپ نے فرمایا : یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہے جس کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ تم سے سوال کیا جائے گا۔ وَ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ میں نے کہا کہ ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کھجور کو بس امریکہ کی کھجور سمجھے۔ ایسی حالت میں اس نے اس کھجور کو صرف پیدا وار امریکہ کے طور پر پایا ، اس نے اسے تخلیق خداوندی کے طور پر نہیں پایا ۔ گویا کہ وہ امریکی صنعت کو دیکھ سکا مگر وہ خدائی صنعت کو دیکھنے سے محروم رہا۔ ایسے ہی لوگوں کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ : من کان في ھذہ اَعمى فھوفی الآ خرۃ اعمى (الا سراء ۷۲)خدا خدا اس دنیا میں اپنی صفات کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔ آخرت میں وہ اپنی ذات کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ جو آدمی صفات کی صورت میں خدا کو نہ دیکھ سکے وہ ذات کی صورت میں بھی خدا کو دیکھنے سے محروم رہے گا۔ اور بلا شبہ اس سے بڑی محرومی اور کوئی نہیں۔
میں نے کہا کہ میکسیکو کا ایک سیاح اسپین گیا۔ وہاں وہ قصرالحمراء دیکھ رہاتھا۔ اتنے میں ایک اندھا فقیر وہاں آکر کھڑا ہو گیا۔ سیاح نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس فقیر کو بہت زیادہ دے دو۔