Al-Risala · May 1995 · page 25

سفر نامہ امریکہ ۔ ۲

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵

زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ مگر ان کے نزدیک یہ خیال درست نہیں۔ یہ تو محض ایک تقسیم ہے گھر کے باہر میرا شوہر باس ہے۔ لیکن گھر کے اندر میں باس ہوں :

While most Americans are under the impression that Muslim wives are oppressed, Mirza said, she hasn't found that to be true. "It's just a different division. Outside the home, my husband's the boss. But in my house, I'm the boss."

اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے ۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرکےنے میں متردد رہتی ہیں ۔ کیوں کہ انہیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جو تعلیم وغیرہ کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں ۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ کیوں کہ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں ۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں ۔ جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔

امریکہ میں انڈیا کے مظلوم مسلمانوں “ کے نام پر بہت سی تنظیمیں قائم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انڈیا سے براستہ یا براہ راست پاکستان امریکہ گئے اور پھر وہاں کے شہروں میں آباد ہو گئے ۔ اپنی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ انھوں نے انڈین مسلمانوں کی ہمدردی میں مختلف ناموں سے ادارے قائم کر رکھے ہیں ۔

اس قسم کے ایک مسلمان نے مجھے ۸۰ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب دی۔ اس میں مختلف اخبارات سے انڈیا کے مسلمانوں کے بارہ میں خبروں اور رپورٹوں کو جمع کیا گیا تھا۔ اس کا نام تھا: Oppression in India: A Case Study of Human Rights Violations میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کو اگر انڈیا کے مسلمانوں سے واقعی ہمدردی ہے تو آپ ان کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے مضامین اور کتابیں چھاپ کر آپ انڈیا کے مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کے جو مسائل ہیں اس کے ذمہ دار خود آپ جیسے مسلم دانش ور ہیں۔ آپ لوگ خود تو امریکہ میں آخری حد تک ایڈجسٹ کر رہتے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کویہ سکھاتے ہیں کہ وہاں وہ ٹکراؤ کر کے رہنے کی کوشش کریں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page