سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۸
کیوں کہ کسی آدمی کی اس سے بڑی محرومی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ وہ الحصرا کے سامنے اندھا ہو۔ بلاشبہ یہ محرومی بڑی عجیب ہے کہ آدمی الحصرا جیسے خوبصورت محل کے سامنے کھڑا ہو اور وہ اس کو دیکھنے کے لئے اندھا ہو۔ مگر اس سے بے شمار گنا زیادہ محرومی وہ ہوگی جب کہ خدا اپنے جمال وکمال کے ساتھ آخرت میں ظہور فرمائے گا مگر حال یہ ہوگا کہ بہت سے لوگ وہاں کھڑے ہونگے مگر وہ اپنے اندھے پن کی وجہ سے اس کو دیکھنے کی سعادت نہیں پائیں گے۔
اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی کے ریڈنگ روم میں مختلف زبانوں کے کئی پرچے دیکھے ریاض کے عربی ہفت روزہ المسلمون (۲۳ دسمبر ۱۹۹۳) کے آخری صفحہ پر ایک خبر تھی جس کا عنوان تھا: الآلاف دخلوا الاسلام (ہزاروں آدمی اسلام میں داخل ہو گئے، ڈاکٹر صلاح الصاوی استاذ جامعۃ الازہر) کے حوالے سے ایک رپورٹ تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی پانچ ہزار تعداد اسلام میں داخل ہو گئی۔ یہ خلیج کے بحران کے دوران اس وقت ہوا جب کہ امریکی فوجیوں اور سعودی نوجوانوں کے درمیان اختلاط ہوا :
ان أعداد الكبيرة قبل انما ۵۰۰۰ جندى أمريكى قد دخلوا الاسلام حينما اتیح لهم الاختلاط بالشباب السعودي. ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں مجھے بہت زیادہ تشویش ہے ۔ وہ مظلوم ہیں۔ وہ نصف صدی سے زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان جاکر ان کی خدمت کروں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ وہاں جاکر انہیں یہی سبق دینا چاہتے ہیں کہ تم مظلوم ہو تو آپ خود ان کے اوپر سب سے بڑا ظلم کریں گے۔ کیوں کہ کسی قوم کو مظلوم ومقہور بتانا ، اور اس کو شکست کے احساس میں مبتلا کرنا گویا نفسیاتی اعتبار سے اس کو قتل کرنا ہے۔ کسی قوم کو آپ احساس یافت پر کھڑا کر سکتے ہیں، احساس محرومی پر کسی قوم کو کھڑا کرنا ممکن نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک ہندوستان میں اپنے مسلم بھائیوں کا کوئی خیال نہیں کرتے جیسا کہ انہیں کرنا چاہئے:
Muslim countries do not care about their Indian Muslim brothers as they should.