سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹
میں نے کہا کہ اس سے آپ کا مطلب اگر یہ ہے کہ مسلم ممالک ہمارے بارے میں بیانات دیں اور حکومت ہند سے مطالبات کریں تو ایسا کرنا ہرگز ہندوستانی مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہوگا اور ہمارے مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل خود ہندوستانی مسلمانوں کو دانش مندی کے ساتھ حل کرنا ہے۔ باہر سے اس کا کوئی حل امپورٹ نہیں کیا جاسکتا۔
جناب صفی قریشی صاحب نے بتایا کہ ۱۹۸۳ میں جب کہ رونالڈ ریگن امریکہ کے پریزیڈنٹ تھے، مسٹر کرین (Robert Crane) کو عرب امارات کا سفیر بنایا گیا۔ ان کے کاغذات جب مخصوص کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے دیکھا کہ مذہب کے خانہ میں ان کے فارم میں اسلام لکھا ہوا ہے۔ انھوں نے دراصل کچھ پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کا اسلامی نام فاروق عبد الحق تھا۔ کمیٹی کے ارکان کو اس پر اعتراض ہوا۔ اس وقت کمیٹی کے ایک سینئر ممبر رمزیئر نے کلارک (Ramsey Clarke) نے اس تقرر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ مسلم ملک میں ایک مسلم سفیر بھیجے :
It is time that America should send a Muslim Ambassador to a Muslim country. ڈاکٹر سلمان ندوی ( پیدائش ۱۹۳۳) مولانا سید سلیمان ندوی کے صاحبزادے ہیں۔ تقسیم کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ کراچی چلے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار انھوں نے مولانا سید سلیمان ندوی سے پوچھا کہ آپ کانگریسیی ہیں یا مسلم لیگی۔ سیدصاحب نے جواب دیا : دماغ سے کانگریس ہوں مگر دل سے مسلم لیگی ہوں۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ان کے علمی استاد مولانا شبلی نعمانی کا تعلق کانگریس سے تھا، اور ان کے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کا جھکاؤ مسلم لیگ کی طرف تھا۔ اس لئے دل مسلم لیگ کی طرف مائل ہے۔
میرے نزدیک یہ اکابر پرستی ہے۔ اسی اکابر پرستی نے موجودہ زمانہ میں مجتہدانہ طرزِ فکر کا دروازہ مسلمانوں کے اوپر بند کر دیا۔
ڈاکٹر سلمان ندوی نے بتایا کہ ۱۹۰۶ میں ندوہ (لکھنو) کا دستار بندی کا جلسہ تھا۔ اسی