سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱
Islam is not a religion as is the case with western religions. It is a total way of life, and has complete systems for mankind. This means that there is no separation between state and religion. (p. 41)
اس موضوع پر ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے دانش ور اس طرح لکھتے ہیں گویا کہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے مذاہب ناقص نظام ہیں اور اسلام کامل نظام۔ یہ ایک غیر علمی بات ہے۔ دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ اسلام محفوظ مذہب ہے اور دوسرے مذاہب محرف اور غیر محفوظ۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ یہاں کے مسلمانوں کے بارے میں جو معلومات مجھے ہوئی ہے اس سے میں نے پایا کہ یہاں کا جو دینی طبقہ ہے وہ زیادہ تر شخص آئیڈینٹی) کی بات کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ یہاں کے ہندوؤں سے بات کریں تو وہ بھی تشخص ہی کے مسئلہ میں الجھے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس پر غور کرتے ہوئے میں نے سمجھا کہ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قومی ظاہرہ ہے نہ کہ فی الواقع کوئی دینی ظاہر۔ تشخص اصلا ظاہری ہیئت سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ دینی اعتبار سے ہمارا اصل کنسرن تشخص نہیں ہونا چاہئے بلکہ کردار ہونا چاہئے۔
انھوں نے میری بات سن کر کہا آپ موحد قوم کا تقابل مشرک قوم سے کر رہے ہیں۔ یہ کتنا غلط تقابل ہے۔ وغیرہ میں اکثر سوچتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ اہل علم (intellectuals) ہیں۔ ان کے پاس خوبصورت الفاظ کا وافر ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ فیاضانہ طور پر ان کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ ایک کار آمد بات کہیں گے اور وہ ایک خوبصورت لفظی مجموعہ بول کر اس کو رد کر دیں گے۔ آپ مینیمم کی بات کریں گے اور وہ میکسیمم پر تقریر کرنا شروع کر دیں گے۔ آپ نقطۂ آغاز کی بات کریں گے اور وہ نقطۂ اختتام کا مسئلہ چھیڑ دیں گے۔ آپ عملی حل پیش کریں گے اور وہ اس کے مقابلہ میں معیاری حل لا کر بحث شروع کر دیں گے۔ آپ کسی لفظ کو ایک خاص معنی میں استعمال کریں گے اور وہ اس لفظ کو دوسرے معنی میں استعمال کر کے اس کو بے قیمت ثابت کر دیں گے۔ آپ ایک سنجیدہ نقطۂ نظر پیش کریں گے اور وہ ایک لطیفہ چھیڑ کر اس کو مذاق میں اڑا دیں گے۔