سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰
سال مولانا سید سلیمان ندوی وہاں کی تعلیم سے فارغ ہوئے تھے۔ حاضرین میں بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ غلام السیدین صاحب نے عین جلسہ میں مولا ناشبلی نعمانی سے کہا کہ اگر ندوہ کاکوئی طالب برجستہ عربی میں تقریر کرے تو میں ند وہ کی اہمیت کو مانوں گا ، ورنہ نہیں۔
مولا ناشبلی نے سید صاحب کو بلایا اور اُن کے کان میں پوچھا کہ تم عربی میں تقریر کر سکتے ہو۔ سید صاحب نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد مولانا شبلی نے غلام السیدین سے کہا کہ یہ طالب علم عربی میں تقریر کرنے کے لئے تیار ہے، آپ عنوان بتائیں۔ انھوں نے یہ عنوان دیا کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کس طرح کی جائے ۔ اب سید صاحب کا نام پکارا گیا۔ وہ اسٹیج پر آئے اور برجستہ تقریر کرنا شروع کیا۔ تاہم مولانا شبلی بے چین تھے کہ اگر کہیں یہ صاحب تقریر نہ کر سکے تو ند وہ کی سخت بے عزتی ہوگی۔ اس بے چینی میں وہ ہال کے باہر چلے گئے ۔ اور گھبراہٹ کے عالم میں باہر ٹہلتے رہے۔ کچھ دیر کے بعد ہال کے اندر احسنٹ، مرحبا کا شور بلند ہوا۔ اب مولانا شبلی اندر آئے۔ سید صاحب کی اس کامیابی پر وہ اتنا خوش ہوئے کہ خود اپنا عمامہ اپنے سر سے اتار کر سید صاحب کے سر پر رکھ دیا۔
اسلام کے بارہ میں یہاں میں نے جو کتاب یا مقالہ دیکھا۔ تقریبا سب میں ایک بات مشترک تھی۔ سب میں یہ نظریہ موجود تھا کہ اسلام میں مذہب اور سیاست کی تفریق نہیں۔ مثلاً مسٹر غلام سرور کی کتاب دیکھی اس کا نام تھا :
Islam : beliefs and teachings (1987)
اس کا دسواں باب پولیٹیکل سسٹم آف اسلام ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے ۔ مذہب اور سیاست اسلام میں بالکل ایک ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں : Religion and politics are one and the same in Islam. They are intertwined. (p. 177)
اسی طرح ڈاکٹر احمد اچ صقر کا مقالہ آرٹائم ( یکم ستمبر ۱۹۹۳) میں پڑھا۔ یہ میگزین کیلی فورنیا سے چھپتا ہے ۔ انھوں نے لکھا تھا کہ اسلام مغربی مذاہب کی طرح ایک مذہب نہیں ہے ۔ وہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ اس میں مذہب اور اسٹیٹ کا فرق نہیں :