سفر نامہ امریکہ ۔ ۲
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳
کانفرنس کا موضوع بظاہر یہ تھا کہ انڈیا کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں مسلمانوں کا رول۔ مگر وہاں جو تقریریں ہوئیں، اس کے لحاظ سے اس کا موضوع ہونا چاہئے تھا ۔ ہندوستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں مسلمانوں کے لئے حصہ داری کی مانگ۔ تقریروں اور ریزولوشن کا خلاصہ یہ تھا کہ "ہندو نازی ازم" ختم کرو۔ مسلمانوں کو ملازمت میں اور تعلیمی داخلہ میں ریزرویشن دو۔ ایڈمنسٹریشن میں مسلمانوں کو ان کی تعداد کے بقدر حصہ دو۔ دلت مقررین نے کہا کہ بھارت میں برہمن واد کو ختم کرنے کے لئے دلت اور مسلمانوں کو ایک ہونا چاہئے" وغیرہ میرے نزدیک اس قسم کی باتیں صرف نادانی کی چیخ پکار ہیں۔ یہ ایک برائی کے جواب میں دوسری برائی کا طوفان کھڑا کرنا ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ تفریقی دہشت گردی کو ختم کرکے ملکی سطح پر ایکتالانے کی کوشش کی جائے۔ رعایت اور ریزرویشن کے بجائے محنت اور لیاقت کے ذریعہ آگے بڑھنے کا مزاج بنایا جائے۔ رد عمل والی سوچ کو ختم کرکے مثبت اور تعمیری سوچ پیدا کی جائے۔ عجیب بات ہے کہ جو لوگ امریکہ جاکر وہاں کے نظام سے آخری حد تک موافقت کرکے رہتے ہیں، وہ وہاں سے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ٹکرائو کی پالیسی بر آمد کر رہے ہیں۔ اس دو عملی میں بیشتر امریکی مسلمان مبتلا ہیں۔ اس قسم کی دو عملی کی روش سطحی لیڈری ہے نہ کہ فی الواقع کوئی رہنمائی۔
ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۸ نومبر ۱۹۹۳) میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس کا عنوان تھا: عندہم کل شیٔ إلا... اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں ہر چیز پائی جاتی ہے سواخیر کے (فی آمریکا يوجد كل شئ إلا الخیر) اور پھر حدیث رسول کو امریکہ پر چسپاں کیا گیا تھا : انا برئ من مسلم يقيم بين ظهراني المشركين۔
مگر یہ دین کی صحیح تشریح نہیں۔ امریکہ میں بلاشبہ ایک بہت بڑا خیر ہے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو حدیث میں سرخ اونٹ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی دعوت اسلام کا کام کرنا اور خدا کے ان بندوں کو خدا کی رحمت کے سایہ میں داخل کرنا۔
مجھ کو اپنے سفر کے دوران کچھ سفید فام امریکیوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ ذاتی تجربہ کی بنا پر میرا خیال ہے کہ عام امریکی میں قبولیت کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کسی معقول بات کو