I am proud to be a Muslim-American.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴
ان کا ذہن فورا جان لیتا ہے۔ سفید فام امریکیوں کے مزاج کے بارہ میں اپنے اس تاثر کا ذکر میں نے جناب صغیر اسلم صاحب سے کیا، جو یہاں ۳۵ سال سے رہتے ہیں، انھوں نے میرے احساس کی تصدیق کی ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں برابر لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ امریکی روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل (۵ اکتوبر ۱۹۹۰) کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین مذہب کا خیال ہے کہ اسلام امریکہ میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے:
Many religious experts say Islam is the fastest-growing faith in the United States. ایسی حالت میں کہنے والوں کو کہنا چاہئے کہ امریکہ میں بہت بڑا خیر موجود ہے۔ وہاں کے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچاؤ اور پھر سرخ اونٹوں کی دولت حاصل کرو۔ ایک ہندوستانی مسلمان جو اب امریکہ میں رہتے ہیں ، انھوں نے شکایت کی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جارہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کے ذمہ دار آپ جیسے لوگ ہیں۔ آپ لوگ خود تو امریکہ میں یک جہتی کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ہندوستان کے معاملہ میں وہاں کے استحصالی لیڈروں کی مدد کرتے ہیں جو مسلمانوں کوعلیحدگی پسندی کے راستہ پر چلانا چاہتے ہیں۔
پھر میں نے ان کو مقامی اخبار آرنج کاؤنٹی (Orange County) کا شمارہ ۹ نومبر ۱۹۹۳ دکھایا۔ اس میں ایک مسلم لیڈر شبیر منصوری کا ایک انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ مجھے امریکی مسلمان ہونے پر فخر ہے:
I am proud to be a Muslim-American.
میں نے کہا کہ ہندوستان کے لیڈر ، خواہ بارئیس ہوں یا بے ریش، کبھی یہ نہیں کہتے کہ مجھے ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ایسی حالت میں اگر اکثریتی فرقہ اور مسلمانوں کے درمیان معتدل تعلقات نہ پائے جائیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ ہیں۔ آپ لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے کچھ پسند کرتے ہیں اور خود اپنے لئے کچھ اور پسند کئے ہوئے ہیں۔