Ayodhya in American Press
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶
کریں مگر دنیا اس کو امن کا اقدام بتائے۔ وہ لوگوں کے راستے میں کانٹے بکھیریں مگر دنیا یہ اعلان کرے کہ انھوں نے ہمارے راستہ کو پھولوں سے بھر دیا ہے۔ اور جب دنیا ایسا نہیں کرتی تو وہ پر جوش طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ساری دنیا کا میڈیا مسلم دشمن ہے ، وہ گہری سازش کے تحت مسلمانوں کے بارہ میں غلط خبر رسانی (disinformation) کا فعل انجام دے رہا ہے۔ آرینج کاؤنٹی کی اسلامک سوسائٹی کی مسجد ایک متروکہ چرچ کو خرید کر بنائی گئی ہے۔ اس قسم کے واقعات امریکہ اور یورپ میں عام ہیں۔ متروکہ چرچ کی عمارت کو کہیں مسلمانوں نے خرید کر مسجد بنالی ہے اور کہیں ہندوؤں نے خرید کر اس کو مندر میں تبدیل کر لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیحی تصور کے مطابق، چرچ کسی مقام یا عمارت کا نام نہیں ہے۔ چرچ قدیم لفظ اکلیسیا (ekklesia) کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ قدیم یونان میں اکلیسیا اجتماع (اسمبلی) کے معنی میں بولا جاتا تھا۔ اس کے بعد مسیحیوں نے اس کو مذہبی اجتماع کے معنی میں بولنا شروع کیا۔ اب اکلیسیا یا چرچ ہم معنی طور پر مذہبی اجتماع یا مذہبی ایسوسی ایشن کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مقام پر مسیحیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے چرچ کی بلڈنگ کا مذہبی استعمال باقی نہ رہے تو تو اس کی مذہبی حیثیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور پھر اس کو بیچناایسا ہی بن جاتا ہے جیسے کسی خالی گھر کو بیچ دینا۔ تا ہم مسیحی حضرات اس کو پسند کرتے ہیں کہ ایک مذہبی عمارت دوبارہ مذہبی عمارت ہی کی حیثیت سے باقی رہے۔ اسی لئے اس قسم کے چرچ نہایت آسانی سے مسجد یا مندر والوں کو حاصل ہو جاتے ہیں۔
لاس اینجلس کے مسٹر عبد الحکیم نے اپنا ایک پیپر (Muslims of India) پڑھنے کو دیا۔ اس کا عنوان یہ تھا کہ ہوشیار دشمن بیوقوف دوست سے اچھا ہے۔ اس کی تشریح میں نیچے لکھا ہوا تھا کہ ہندوستان کی مسلم لیڈر شپ بھی جزئی طور پر ذمہ دار ہے:
A smart enemy is better than a foolish friend (Muslim leadership is also partly responsible)
میں نے کہا کہ جزئی طور پر نہیں، بلکہ کلی طور پر مسلمانوں کی نا اہل لیڈر شپ ہی ان کے تمام مسائل کی ذمہ دار ہے۔ مثلاً ڈنر رویشن کے دور میں اس نے مسلمانوں کے اندر رزرویشن کا فتنہ بنایا۔ ۳۶ الریاض مئی ۱۹۹۵