Ayodhya in American Press
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷
موجودہ زمانہ میں صحافت ایک انڈسٹری ہے۔ اس کو جو لوگ چلاتے ہیں وہ اظہار حق کے لئے اس کو نہیں چلاتے بلکہ خالص تجارتی مصلحت کے تحت چلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخبارات ہمیشہ گرماگرم خبروں کو اہمیت دیتے ہیں، کیوں کہ عوام ایسی خبروں کو پڑھنے میں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان اخبارات میں زیادہ تر انتہا پسند مسلمانوں کی باتیں نمایاں کی جاتی ہیں۔ مثلاً کچھ مسلمانوں نے جب امریکہ کے ٹریڈ سنٹر پر بم مارا تو یہ خبر فورا تمام اخباروں میں چھپ گئی۔ جب کہ دوسری اچھی خبریں ان اخباروں کے صفحات میں بہت کم جگہ پاتی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہے کہ جو امریکی اخبار کی خبروں سے اسلام کے بارہ میں واقف ہوتے ہیں وہ اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب سمجھتے ہیں، کیوں کہ اسلام کی نسبت سے وہ ہمیشہ اسی قسم کی خبریں اپنے اخباروں میں دیکھتے ہیں۔
اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم امریکی صحافت کی مذمت کریں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ان مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو منفی طرز ِفکر میں مبتلا ہیں اور متشددانہ قسم کے واقعات بر پا کر کے اہل صحافت کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اسلام کی تصویر کو خراب کریں۔ ایک جائزے کے مطابق، ۴۰ فیصد امریکی اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے۔ ۳۰ فیصد کا یہ کہنا ہے کہ وہ اسلام کے ساتھ موافقت کر کے رہ سکتے ہیں۔ ۳۰ فیصد امریکیوں نے واضح طور پر اسلام سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا۔