Ayodhya in American Press
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹
تقریبا پانچ ہزار مسلمان تھے۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ ہم کو اس سے محبت کرنا چاہئے۔ اس کے بعد ہی اس ملک میں اسلام انشاءاللہ پھیل سکتا ہے:
لوگوں نے ان الفاظ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لوگوں نے کہا کہ امریکہ تو ایک اسلام دشمن ملک ہے۔ پھر ہم اس سے محبت کیسے کر سکتے ہیں۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ اگر آپ سچ مچ ایسا ہی سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو چاہئے کہ امریکہ میں اپنی شہریت کو ختم کر کے یہاں سے واپس چلے جائیں۔ امریکی شہریت کے دستاویز پر دستخط کرنا اور امریکہ کے ساتھ وطنی تعلق قائم نہ کرنا دومتضادروش ہے۔ یہ دوہرا معیار ہے، اور دوہرے معیار کا آدمی کبھی کسی ملک میں اسلامی دعوت کا کام نہیں کر سکتا۔ صغیر اسلم صاحب کے دادا چودھری محمد عیسی (م ۱۹۴۸) بہت سمجھدار آدمی تھے۔ صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ ان کے دادا کہا کرتے تھے کہ دوسروں کی اچھائی اور اپنی برائی کو دیکھو۔ یہ دو لفظ میں نہایت اعلیٰ اصول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف یہی دو لفظ کا اصول لوگ پکڑ لیں تو سارے جھگڑے اپنے آپ ختم ہوجائیں۔ آج ہر طرف جو جھگڑے ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ آج لوگوں کا مزاج اس کے برعکس ہو گیا ہے۔ آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنا معاملہ ہو تو وہ صرف اچھائی کو دیکھیں گے اور دوسرے کا معاملہ ہو تو صرف برائی کو۔
موجودہ سفر میں میری ملاقات ایک امریکی مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ہم لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی آزادی ہے۔ مثلا انھوں نے بتایا کہ پچھلی رات کو اچھے میرے لڑکے کے پاس اس کے ساتھی کا ٹیلی فون ۔ وہ اس کو ایک پارٹی میں بلا رہا تھا۔ میرے لڑکے نے فوراً گاڑی اٹھائی اور روانہ ہو گیا۔ میں جانتا ہوں کہ وہاں لڑکے اور لڑکیاں مل کر تفریح کرتے ہیں، شراب پیتے ہیں، وغیرہ۔ یہاں کے نظام کی وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میرا خون کھول رہا۔ مگر میرے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بے بسی کے ساتھ اس کو برداشت کروں۔
میں نے کہا کہ آپ ایسا کیجئے کہ ہر سال اپنے بچوں کو مہینہ دو مہینہ کے لئے اپنے سابقہ وطن میں