Ayodhya in American Press
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰
بھیج دیجئے۔ وہاں وہ اردو سیکھیں گے اور اسلامی ماحول میں رہیں گے۔ اس طرح ان کی اصلاح ہوتی رہے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ بھی سخت مشکل ہے۔ پچھلے سال میں اپنے بچوں کو لے کر وطن گیا۔ مگر وہاں کے ماحول میں وہ رہ نہیں سکے۔ وہاں کا پانی پی کر ان کا پیٹ خراب ہوگیا۔ وہاں کے بیت الخلا میں انھوں نے جانے سے انکار کر دیا۔ اس طرح کے مختلف مسئلے پیش آئے۔ وہاں جب تک میں تھا ان کو لے کر بس ڈاکٹروں کے یہاں دوڑتا رہا۔
اس قسم کے عجیب عجیب مسائل ہیں، جن میں یہاں کے مسلمان مبتلا ہیں۔ ان مسائل کی کم از کم ایک وجہ ان کا مصنوعی معیار زندگی ہے۔ یہاں ہر شخص مصنوعی طور پر اپنا معیار زندگی بڑھا لیتا ہے اس کے نتیجہ میں وہ طرح طرح کے مصنوعی مسائل میں مبتلا رہتا ہے۔
یہاں آپ کسی سے ملاقات کے لئے جائیں تو وہ ایک شاندار گھر میں آپ کا استقبال کریگا۔ لیکن یہ گھر سودی قرض پر ہوگا۔ یہاں تمام لوگ سودی قرض پر مکان خریدتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے لائف اسٹائل کے مطابق، کوئی آدمی اپنا جو اسٹیٹس سمجھتا ہے، اس سے مطابقت رکھنے والا گھر وہ نقد رقم دے کر خرید نہیں سکتا۔ اس لئے وہ سودی قرض لے کر مکان خریدتا ہے جو بہت آسانی سے اس کو مل جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ کما کما کر ساری زندگی اس کی قسط مع سود ادا کرتا رہتا ہے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو گھر یا زندگی کا جو ڈھانچہ سارا کا سارا سود کے اوپر بنا ہو اس کے اندر رہنے والے بچوں میں صالح مزاج کیوں کر پرورش پاسکتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے، وہ اس وقت میری سمجھ میں آیا جب کہ میں نے جانا کہ جناب منیر اسلم صاحب ان انتہائی چند مستثنیات میں سے ہیں جو ایسے گھر میں رہتے ہیں، جو انھوں نے نقد ادائیگی کی بنیاد پر حاصل کیا ہے، اس میں سود کی آمیزش شامل نہیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اس طرح کہ اپنے اسٹیٹس کے اعتبار سے انھیں ۲۰ لاکھ ڈالر کے مکان میں رہنا چاہئے تھا مگر وہ صرف دو لاکھ ڈالر قیمت کے مکان میں رہتے ہیں۔
امریکی نظام میں سود سے بچنے کی قیمت یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ جرات ہو کہ وہ بظاہر کم تر معیار حیات پر اپنے کو راضی کرے ۔ وہ اس کی پروا نہ کرے کہ لوگ اس کے بارہ میں کیا کہیں گے۔ اس کے اندر یہ بلند نگاہی ہو کہ وہ اپنے آپ کو خود اپنی نظر سے دیکھے نہ کہ دوسروں کی نظر سے۔