امن کی ضرورت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵
امن کی ضرورت
۲۵ جون ۱۹۹۴ کو دہلی میں ایک عرب وفیسر سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دون کسی وجہ سے یہ ذکر آیا کہ اگست کے پہلے ہفتہ میں مجھے لندن جانا ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ کس لئے۔ میں نے کہا کہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لئے۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ اس کانفرنس کا موضوع بحث کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ امن (سلام) انھوں نے فوراً کہا : السلام بین من بين القوى والضعيف أو بين الظالم والمظلوم را امن کن لوگوں کے درمیان۔ کیا طاقتور اور کمزور کے درمیان یا ظالم اور مظلوم کے درمیان ، میں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ امن کن لوگوں کے درمیان۔ اصل مسئلہ ہے کہ امن کس مقصد کے لئے (لیست القضية ، السلام بين من ۔ وإنما القضية هي ، السلام لإئ غرض)
آج کل کے مسلم دانشوروں کے ذہن پر یہ چھایا ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان پر ہر جگہ زیر دست ہیں اور غیر مسلم قو میں ہر جگہ ان پر غالب ہیں۔ ایسی حالت میں جو امن ہوگا وہ دو ناصاوی فریقوں کے درمیان ہوگا۔ یہ گویا فریق ثانی کے مقابلہ میں اپنی موجودہ حیثیت کو تسلیم کر لینا ہے پھر ایسا کھلا ہوا گھاٹے کا معاملہ ہم کیونکر کر سکتے ہیں۔
مگر یہ سوچ کا غلط رخ ہے۔ صحیح رخ یہ ہے کہ ہم سوچیں کہ آج ہم کو وقفہ امن کی ضرورت ہے۔ ہم سو برس سے بھی زیادہ عرصہ سے فریق ثانی سے ٹکراؤ کر رہے ہیں۔ ہمارا یہ ٹکراؤ، غیر معمولی قربانیوں کے باوجود، صرف ہماری مزید تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مقابلہ میں وہ ہتھیار غیر استعمال شدہ پڑا ہوا ہے جو ہمارا سب سے زیادہ طاقت ور ہتھیار تھا۔ یعنی اسلام کی بر تر آئیڈیالوجی۔ مگر اس ہتھیار کے استعمال کے لئے معتدل فضا درکار ہے، اور معتدل فضا صرف امن کے حالات میں قائم ہوتی ہے۔ داعی قوم اور مدعو قوم کے درمیان معتدل حالات قائم کرنا اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ ہونے کا موقع دینا ہے، اور جب اسلام کا دعوتی عمل موافق فضا میں جاری ہو جائے تو کوئی چیز نہیں جو اسلام کو غلبہ کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues