ترک کلام
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲
ترک کلام
دہلی کے ایک حاجی جناب صلاح الدین صاحب اپنی اہلیہ اختر سلطانہ صاحبہ کے ساتھ حج کے فریضہ سے فارغ ہو کر جون ۱۹۹۴ میں اپنے وطن واپس آئے۔ اس کے بعد انھوں نے بہشتی زیور کا ایک خصوصی نسخہ لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ یہ ایک مفید اصلاحی طریقہ ہے اور بلاشبہ قابل تعریف ہے۔
۱۹۴۲ سے پہلے کے دور میں ہمارے یہاں یہ حال تھا کہ ہر مسلمان کے گھر میں قرآن کے بعد دوسری کتاب جو ضرور موجود رہتی تھی وہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی بہشتی زیور تھی۔ اب نئی نئی چیزوں کے چلن نے اس رواج کو ختم کر دیا ہے۔ اس رواج کا یہ فائدہ تھا کہ گھر کی عورتیں اور بچے شروع ہی سے دین کی ضروری باتیں سنتے اور پڑھتے تھے۔ زندگی کے بارہ میں اسلامی آداب ان کے ذہن میں اس طرح بیٹھ جاتے تھے کہ وہ اس کی خلاف ورزی کا تصور نہیں کر سکتے۔
بہشتی زیور کا جو نسخہ ہمارے سامنے ہے، اس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے __ اس مجموعہ میں مستورات کی تمام ضروریات، عقائد و مسائل، اخلاق و آداب معاشرت اور تربیت اولاد وغیرہ مذکور ہیں۔ ۸۰۰ صفحہ کی اس کتاب میں یہ تمام باتیں نہایت سادہ زبان میں بتا دی گئی ہیں۔ اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے میری نظر اس عنوان پر پڑی: "بولنا چھوڑنا" اس عنوان کے نیچے درج تھا: "فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کے ساتھ تین دن سے زیادہ بولنا چھوڑ دے اور اسی حالت میں مر جائے تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ (۴۲۸) یہ حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مذکورہ الفاظ ابوداؤد کی روایت میں ہیں۔ آج یہ اخلاقی برائی گھر گھر میں پائی جاتی ہے۔ دو مردوں یا عورتوں کے درمیان کوئی خلاف مزاج بات ہوئی، اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے منھ پھیرلیں گے اور سلام و کلام ترک کر دیں گے۔ یہ فعل نہ صرف غیر اخلاقی اور غیر انسانی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ جو عورت یا مرد تین دن گزرنے کے بعد بھی بول چال بند رکھیں اور اسی حال میں ان پر موت آجائے تو سخت اندیشہ ہے کہ مرنے کے بعد وہ حدیث کے مطابق، اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں گرہ ہوا پائیں گے۔