Ayodhya in American Press
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱
کچھ لوگ جوانڈیا اور پاکستان سے آئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم اپنی اگلی جنریشن کو کھو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ عربی کا ایک مثل ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس حیثیت سے غور کیجئے تو یہاں بھی ایک ضد موجود ہے اور ان دونوں کا تقابلی مطالعہ کر کے آپ معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ ضد آپ لوگ خود ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم اپنی اگلی جنریشن کو کھو رہے ہیں۔ مگر آپ لوگ پچھلی جنریشن تو پھر بھی ضائع ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اگلی نسل ضائع ہو رہی ہے تو پچھلی نسل کس طرح محفوظ ہے۔ اس تقابلی مطالعہ کی ضرورت اس لئے ہے کہ آپ محفوظ نسل کے کیس کو سمجھ کر اس کو ضائع ہونے والی نسل پر استعمال کر سکتے ہیں۔
اس بات کو سادہ طور پر اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی نسل کی پرورش ”اردو کلچر“ میں ہوئی تھی اور نئی نسل کی پرورش ”انگلش کلچر میں ہو رہی ہے۔ ہر زبان الگ الگ مذہب اور روایات کی نمائندہ ہوتی ہے۔ انگلش اگر مادی تہذیب میں رچی بسی ہے تو اردو روحانی تہذیب میں رچی بسی ہوئی ہے۔ اگر آپ اپنی اگلی نسل کو اپنے جیسا دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ انتظام کرنا ہوگا کہ ان کی پرورش بھی آپ والے کلچر میں ہو۔ اس کے بغیر اگلی نسلوں کی حفاظت ممکن نہیں۔ ۲۸ دسمبر کو کیلی فورنیا کے انگریزی میگزین آور ٹائمس (Our Times) کے ایڈیٹر مسر تشبیہ سید نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے دانشور یہ کہتے ہیں کہ مسلم ملکوں میں جو لوگ حکومت کے عہدہ پر ہیں وہ سب اسلام کے مخالف ہیں اور مغربی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ نظریہ سید جمال الدین افغانی کے زمانہ سے چل رہا ہے۔ مگر میں اس کو سراسر بے معنی سمجھتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ موجودہ مسلم حکمران کچھ مسلم تنظیموں پر تشدد کر رہے ہیں، مگر اس کی ذمہ داری خود ان مسلم تنظیموں پر ہے۔ یہ لوگ مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اور جب بھی کسی کے اقتدار کے خلاف تحریک چلائی جائے تو وہ یہی کرتا ہے۔ مسلم اداروں میں لوگوں کو چھوٹے چھوٹے اقتدار حاصل ہیں۔ اگر آپ ان کو ان کے مقام سے ہٹانے کی تحریک چلائیں تو وہاں بھی آپ کا وہی انجام ہوگا جس کی شکایت آپ سیاسی حکمرانوں سے کر رہے ہیں۔