Al-Risala · May 1995 · page 44

یکم جنوری ۱۹۹۵ء

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴

یکم جنوری ۱۹۹۵ء

اقوام متحدہ کا یہ اعلان نہایت صحیح اور بروقت ہے۔ آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی رواداری یا ٹالرنس ہے۔

زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ خواہ کوئی خاندان ہو یا کوئی سماج ہو یا کوئی ملک ہو، ہر جگہ ایک اور دوسرے میں فرق اور اختلاف ضرور پایا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فرق اور اختلاف کی موجودگی میں اتحاد اور میل ملاپ کس طرح پیدا کیا جائے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتحاد کا ماحول اگر بنانا ہے تو اختلافات کو مٹا دینا ہوگا۔ مگر یہ رائے غلط ہے، کیوں کہ وہ قابلِ عمل نہیں۔ اگر آپ پھول کے ساتھ کانٹے کو پسند نہ کرتے ہوں تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ کانٹوں کو توڑ کر کانٹوں کا خاتمہ کر دیں۔ کیوں کہ آپ ڈالی کا ایک کانٹا توڑیں گے تو اس کی جگہ دوسرا کانٹا نکل آئے گا۔ حتیٰ کہ اگر آپ تمام پھولوں پر بلڈوزر چلا دیں تب بھی جو نیا درخت اگے گا اس میں دوبارہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ضرور موجود ہوں گے۔

اس دنیا میں کانٹوں کو گوارا کر کے ہی پھول کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اختلافات کو برداشت کر کے ہی پر امن سماج بنایا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد حاصل ہوتا ہے۔ نہ کہ اختلاف کو مٹا کر متحد ہونے سے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ امن کی زندگی کو حاصل کرنے کا واحد راز ہے، بے امنی کو گوارا کرنا۔

دنیا میں فرق اور اختلاف ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ ایک مثبت خصوصیت ہے اور اس کے بہت سے بڑے بڑے فائدے ہیں۔ باغِ حیات کی خوشنمائی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں اتحاد کے پھول کے ساتھ اختلاف کا کانٹا بھی پایا جائے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں میں اعلیٰ اخلاقیات کی تربیت ہوتی ہے۔ اپنے ہم خیال لوگوں کے درمیان اگر آپ خوش اخلاق ہوں تو آپ نے محض ابتدائی اخلاق کا ثبوت دیا۔ لیکن اگر آپ ان لوگوں کے درمیان خوش اخلاقی کا رویہ اختیار کریں جو آپ سے الگ خیال رکھتے ہیں یا آپ کے ناقد ہیں تو آپ نے یہ استحقاق حاصل کیا کہ آپ کو اعلیٰ اخلاقی سلوک کا کریڈٹ دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page