Al-Risala · May 1995 · page 45

یکم جنوری ۱۹۹۵ء

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۵

اسی طرح اگر سماج میں تمام لوگ بالکل ایک رائے کے ہوں، ان میں کوئی اختلافی بحث نہ پیدا ہوتی ہو تو ایسا سماج پتھر کے اسٹیچو کا سماج بن جائے گا۔ اس کے درمیان رہنے والوں کی فکری ترقی رک جائے گی۔ فکری ترقی ہمیشہ افکار کے ٹکر او کے درمیان ہوتی ہے۔ پھر جہاں افکار کا ٹکراؤ ہی نہ ہو وہاں فکری ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔

نزاع اور اختلاف کے مقابلہ میں رواداری کا طریقہ اختیار کرنا کوئی انفعالی صفت نہیں۔ یہ عین ایجابی صفت ہے۔ زندگی کی تعمیر میں اختلافات کا نہایت اہم رول ہے۔ اختلافات کے عمل کے دوران ہی اعلیٰ انسانیت شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ اگر انسانی سماج سے اختلاف کی حالت کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد اعلیٰ شخصیتوں کا بننا بھی یقینی طور پر رک جائے گا۔ اس دنیا میں کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس میں ایک صفت ہوتی ہے تو دوسری صفت اس کے اندر نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک سبب ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فرق اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

مگر اجتماعی زندگی کے لئے یہ اختلاف ایک رحمت ہے۔ کیوں کہ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی کمی کو دوسرا آدمی پورا کرے۔ ایک کی خصوصیت دوسرے کے کام آئے۔ اگر لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے اختلاف کو گوارا کرنے کا مزاج ہو تو یہ اختلاف مجموعی انسانی ترقی کا ایک طاقتور وسیلہ بن جائے گا۔

۱۹۴۷ء کے بعد جب انڈیا میں پہلی آزاد حکومت بنی تو اس میں دو اہم لیڈر شامل تھے۔ ایک پنڈت جواہر لال نہرو، دوسرے سردار ولبھ بھائی پٹیل۔ پنڈت نہرو کے اندر مغربیت تھی اور سردار پٹیل کے اندر مشرقیت۔ اس بنا پر دونوں لیڈروں میں اکثر رائے کا اختلاف ہو جاتا تھا۔ مگر یہ اختلاف قوم کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا۔ کیوں کہ پنڈت نہرو کی صلاحیت سے سردار پٹیل کی کمی پوری ہوئی، اور سردار پٹیل کی صلاحیت پنڈت نہرو کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئی۔

یہ ایک قریبی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائے اور طبیعت کا اختلاف انسانی کی عمومی ترقی کے لئے کتنا زیادہ ضروری ہے۔

رواداری کی خصلت آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page