خبر نامه اسلامی مرکز
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰
خبر نامه اسلامی مرکز
۳۰ دسمبر ۹۹ اکوزی ٹی وی کی ٹیم اسلامی مرکز میں آئی۔ اس نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو اور ویڈیو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ریزرویشن کے مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ریزرویشن کسی بھی کمیونٹی کے مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔ نہرو گورنمنٹ نے ہندوستان کے صنعتی گروپ کو پروٹکشن دیا۔ مگر ملکی صنعت ترقی نہ کرسکی۔ چنانچہ اب حکومت اس پالیسی کو چھوڑ کر کا مقابلے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو بھی اس فطری حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے محنت کے اصول کو اختیار کرنا چاہئے۔ ریزرویشن کی بے فائدہ مانگ میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
۳۔ ۶ جنوری ۹۹ کو گوہائی میں ایک نیشنل سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع نارتھ ایسٹ علاقہ کے مسائل پر غور کرنا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور موضوع پراپنا تعمیری نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کی تفصیلات انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی ۔
۸ جنوری ۹۲۵ کو ہیلی روڈ (نئی دہلی) پر تعلیم یافتہ افراد کا ایک اجتماع ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ نئے انڈیا کی تعمیر و تشکیل کس طرح کی جائے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع سے متعلق اپنے تعمیری خیالات تفصیل کے ساتھ پیش کئے ۔ لوگوں نے اتفاق کرتے ہوئے اسی لائن پر کام کرنے کا عزم کیا۔
ہندی روزنامہ جن ستّا کے نمائندہ مسٹر شمس طاہر خان اور مسٹر ہریش لاکھیرانے ۱۹ جنوری ۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے تعلیمی مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تعلیمی پچھڑ اپن کا کوئی بھی تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے نااہل لیڈروں پر ہے جنہوں نے مسلمانوں کو غیر ضروری مسائل میں الجھایا اور ان کے اندر تعمیری ذہن نہیں بننے دیا۔
راشٹریہ سہارا (ہندی روزنامہ) کے نمائندہ مسٹر جوہر عبد اللہ اور مسٹر منوج کنک نے