Al-Risala · May 1995 · page 49

خبر نامه اسلامی مرکز

الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹

کا موضوع تھا : ملک میں اقدار پرمبنی سماج کی تعمیر۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور صدارتی خطبہ کے تحت اپنے خیالات پیش کئے۔ اس کی رودادا نشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔

ہندی ہفت روزہ پانچ جنیہ کے سب ایڈیٹر مسٹر مہاراج کرشن بھرت نے ۲ فروری ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا موضوع یہ تھا کہ " میں مسلمان کیوں ہوں "۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ گیتا کے دو حصے ہیں، ایک اس کی اخلاقی تعلیمات ہیں۔ اس اعتبار سے مجھے اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دوسرا حصہ تھیالوجی کا ہے۔ اس سے مجھے اختلاف ہے۔ کیوں کہ اس میں وحدت وجود کی تعلیم ہے، جبکہ میں اسلام کے مطابق توحید کو مانتا ہوں۔

نو بھارت ٹائمس (ہندی) کے رپورٹر مسٹر گلشن رائے کھتری نے ۳ فروری ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اقلیتوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمان بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔ مگر یہ تمام مسائل خود مسلمانوں کے نا اہل لیڈروں کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جس دن مسلمان اپنے نا اہل لیڈروں سے چھٹکارا پالیں گے اسی دن ان کے تمام مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

پنچایت موومنٹ کے زیر اہتمام ۳ فروری ۱۹۹۵ کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ایک نیشنل سمینار ہوا۔ اس میں اعلی تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر سمینار میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ خطاب کا خلاصہ یہ تھا کہ محض سسٹَم کے بدلنے سے ہمارے حالات نہیں بدل سکتے۔ اصل مسئلہ لوگوں کا ذہن بدلنا ہے۔ اس کے لئے ماس ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ مسٹر جیٹھ ملانی، جنرل ارور ا، فادر گریگوریوز وغیرہ نے بھی تقریریںکیں۔ ۱۳ مدراس کے اسلامک فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے اسلام اور عدل اجتماعی (الرسالہ جنوری ۱۹۹۳) کو تمل زبان ترجمہ کر کے شائع کیا ہے۔ اس سے پہلے اور بھی کچھ کتابیں تمل میں شائع ہو چکی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1995 All issues

Printed page