Al-Risala · June 1995 · page

دعوت اور کردار

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

دعوت اور کردار

غیر مسلم قوموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کا ایک لازمی فریضہ ہے۔ جس طرح عمل کے بغیر مومن کا مومن ہونا متحقق نہیں۔ اسی طرح دعوتی ذمہ داری کو ادا کیے بغیر امت کا امت محمدی ہونا متحقق نہیں۔ مگر اتنا اہم فریضہ پوری امت میں متروک ہو گیا ہے۔ حقیقی معنوں میں آج کہیں بھی دعوت کا کوئی وجود نہیں۔ اس ناقابل معافی غفلت کی وجہ ایک خود ساختہ مفروضہ ہے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں میں اسلامی کردار نہیں۔ اور جب مسلمان خود ہی اسلامی کردار سے خالی ہوں تو وہ مؤثر دعوتی کام کس طرح انجام دے سکتے ہیں، یہ عذر نظری اور عملی دونوں اعتبار سے بالکل بے بنیاد ہے۔

کوئی بھی آدمی کامل نہیں ہو سکتا۔ اور نہ کوئی آدمی کبھی بھی اپنے آپ کو کامل سمجھ سکتا ہے۔ اس بنا پر داعی کے لیے اگر یہ شرط لگادی جائے تو دعوت کا کام کبھی شروع ہی نہیں ہوگا۔ اسی لیے علماء نے متفقہ طور پر یہ کہا ہے کہ دعوت کے لیے کردار شرط نہیں ہے (تفسیر ابن کثیر (۸۵/۱ حیات الصحابہ ۴۶۸/۳ علی اعتبار سے دیکھئے تو دعوت حق کی پوری تاریخ اس کی تردید کرتی ہے۔ تمام کے تمام پیغمبر یقینی طور پر کردار کے اعلیٰ مرتبہ پر تھے، مگر قرآن کے مطابق تمام پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا۔ کسی بھی پیغمبر کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ اس کے کردار کو دیکھ کر لوگ اس پر ایمان لانے کے لیے ٹوٹ پڑے ہوں (یس ۳۰) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی گواہی کے مطابق اخلاق کے انتہائی اعلیٰ مرتبہ پر تھے۔ نبوت سے پہلے ہی آپ کا کردار اتنا مسلم ہو چکا تھا کہ لوگ آپ کو الامین کہنے لگے تھے۔ مکہ کے لوگوں نے نبوت سے پہلے چالیس سال تک آپ کی با کردار زندگی کو دیکھا تھا۔ مگر اس کے باوجود مکہ میں آپ کی نہایت سخت مخالفت ہوئی۔ تھوڑے سے افراد کو چھوڑ کر، مکہ کے عام لوگ آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ دوسری طرف مدینہ کے باشندوں نے آپ کا کردار نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ آپ کی بلند اخلاقی کا براہ راست تجربہ کیا تھا۔ اس کے باوجود ہجرت سے پہلے ہی وہاں گھر گھر میں اسلام پھیل گیا۔ مدینہ میں اسلام کی یہ غیر معمولی اشاعت صرف قرآن کے ذریعہ ہوئی۔ دور اول سے لے کر اب تک اسلام قبول کرنے والوں نے زیادہ تر اسلام کے اصولوں سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے نہ کہ مسلمانوں کے کردار سے متاثر ہو کر۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page