Al-Risala · June 1995 · page

ذرائع مواصلات

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

ذرائع مواصلات

اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت وہ ہے جس کو ٹیلی فون کہا جاتا ہے۔ یہ حیرت ناک دریافت بولے ہوئے لفظوں کو برقی لہروں میں تبدیل کرتی ہے۔ ان لہروں کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ منزل پر پہنچا کر دوبارہ ان کو اتنی صحت کے ساتھ لفظوں میں تبدیل کرتی ہے کہ آپ صرف آواز سے پہچان لیتے ہیں کہ دوسری طرف کون بول رہا ہے :

This wondrous invention converts spoken words into electrical waves, transmits them along a line and reconverts them into sound so true that there is often no need to ask who is at the other end. ٹیلی فون کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ کرۂ ارض کے کسی بھی حصہ میں رہتے ہوئے اس کے کسی بھی حصہ سے ربط قائم کر سکتے ہیں۔ مثلاً آپ انڈیا میں ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کے صدر مقیم واشنگٹن یا برطانیہ کی ملکہ مقیم لندن سے بات کریں تو آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے دفتر کے ٹیلی فون پر بالترتیب حسب ذیل نمبر دبائیں اور معا بعد آپ کا ربط مذکورہ شخصیتوں کے دفتر سے قائم ہو جائے گا :

پہلا ٹیلی فون ۴ اپریل ۱۸۷۷ کو مساچو سٹس میں چارلس ولیمز (Charles Williams) کے دفتر میں لگایا گیا تھا۔ آج ساری دنیا میں لوگوں کے گھروں اور دفتروں میں سیکڑوں ملین ٹیلی فون لگے ہوئے ہیں۔ جان بروکس (John Brooks) نے اپنی کتاب (Telephone: The First Hundred Years) میں لکھا تھا کہ انسان اپنی چیخ کو چند سو گز فاصلہ تک پہنچا سکتا تھا مگر ٹیلی فون کے ذریعہ وہ اپنی سرگوشی کو بھی ساری دنیا میں پہنچا دیتا ہے :

Man, instead of making himself heard a few hundred yards away with a shout, can make himself heard around the world with a whisper. ٹیلی فون (اور دوسرے ذرائع مواصلات) اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔ وہ اس لیے تھے کہ اس کو اللہ کے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر اس نعمت کو دوسرے مقاصد کے لیے تو خوب استعمال کیا گیا مگر اللہ کے پیغام کو پھیلانے کے لیے اسے اب تک استعمال نہ کیا جا سکا۔ یہ کفران نعمت کی کیسی عجیب مثال ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page