Al-Risala · January 1995 · page 27

Why have I lost my teeth?

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷

(Frances Weich) درج تھا۔ یہ مضمون مسٹر زاد چودھری کے بارے میں تھا۔ نزاد چودھری ۱۸۹۷ میں بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کو انگریزی لٹریچر سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ ۱۹۵۵ میں وہ پہلی بار انگلینڈ گئے۔ پچھلے ۲۲ سال سے وہ مستقل طور پر یہاں ہیں اور آکسفورڈ کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ ان چند ہندوستانیوں میں سے ایک ہیں جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ پرفیکٹ انگلش لکھتے ہیں۔ اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعہ ان کو جو محدود آمدنی ہوتی ہے ، اسی پر وہ گزر کرتے ہیں اور حد درجہ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے آکسفورڈ میں ایک تقریر کی۔ تقریر کا موضوع تھا کہ برطانیہ میں تہذیب کے زوال کا سبب کیا ہے۔ وہ ڈائس پر کھڑے ہوئے۔ اپنے منہ سے اپنا مصنوعی دانت نکالا اور اس کے بعد حاضرین سے سوال کیا کہ اپنے یہ دانت میں نے کیوں کھودئے:

Why have I lost my teeth?

یعنی یہ سادہ طور پر عمر کا معاملہ ہے۔ ایک فرد بوڑھا ہونے پر اپنے دانت کھو دیتا ہے، اسی طرح قومیں لمبی مدت گزرنے کے بعد عروج کا مقام کھودیتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، اور برطانیہ اس وقت اسی قانون فطرت کی زد میں ہے۔

لندن میں پروفیسر انیس قاری نے بتایا کہ ایک انگریز ان کا ملاقاتی ہے۔ اس کا نام ڈاکٹر مارٹن (Dr Martin) ہے۔ وہ اچھی اردو جانتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے ایم اے اور ڈاکٹریٹ اردو میں کیا ہے۔ قاری صاحب نے اس سے پوچھا کہ تم نے اردو کیسے پڑھی۔ اس نے بتایا کہ نوجوانی کی عمر میں جاب کی تلاش میں بریڈ فورڈ گیا۔ وہاں میں نے ایک مسلمان کا مکان کرایہ پر لیا۔ یہ پاکستان (میر پور) سے آیا ہوا ایک مسلمان تھا۔ معمولی پڑھا لکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ابھی میرے پاس جاب نہیں ہے تو اس نے مجھ سے کرایہ بھی نہیں مانگا۔ اس نے کہا کہ جب جاب مل جائے تو کرایہ دے دینا۔ اگلے مہینہ مجھے جاب مل گیا تب بھی اس نے مجھ سے کرایہ نہیں لیا۔ اس نے کہا کہ ابھی تم کو پہلی تنخواہ ملی ہے۔ تم کو کام ہوگا، تم اپنا کام چلاؤ۔ آئندہ مجھے دیدینا۔

مسلمان کے اس غیر معمولی سلوک کا ڈاکٹر مارٹن پر بہت اثر پڑا۔ انھوں نے سوچا کہ مجھے اس زبان کو پڑھنا چاہئے جو اس عجیب آدمی کی زبان ہے۔ تاکہ اس کے کلچر سے مجھے واقفیت ہو۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page