ایک اقتباس
الرسالہ، جون ۱۹۹۵
موشے دایان کایہ جملہ بہت بامعنی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو اپنی ماضی کے اعتبار سے دبیکھتے ہیں اور ہم ان کو ان کے حال کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ اسی بات کو ایک مغربی مبصر نے اس طرح بیان کیا کہ مسلمانوں کا کیس موجودہ زمانہ میں پیرانویڈ (paranoia) کا کیس بن گیا ہے۔ پیر انونگ کیر کٹر وہ ہے جو پدرم سلطان بود کی نفسیات میں جینے لگے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے بارہ میں فخر میں مبتلا رہتے ہیں۔ مگر دوسرے لوگوں سے انہیں اس کے خلاف تجربہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسرے لوگ ان کو ان کے حال کے مطابق دیکھتے ہیں اور ان کے حال کے اعتبار سے ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگ نفرت اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ لوگ ہماری حیثیت کے مطابق ہمارا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ گزرے ہوئے لوگوں کی بڑائی میں جینا، اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف ہلاکت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس میں یک وقت دو بڑے نقصانات چھپے ہوئے ہیں۔
ایک یہ ہے کہ جو لوگ اس نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خود فکری اور خود عملی کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ ان کی سوچ پچھلوں کی سوچ کے دائرہ میں چلتی ہے۔ وہ پچھلے لوگوں کے کارناموں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کرنے کو عمل کا قائم مقام سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی خود عمل کر نیوالے نہیں بن سکتے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ دوسرے لوگ جن کے درمیان انہیں جینا ہے، ان کے بارہ میں وہ نہایت خلاف واقعہ رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ دوسرے لوگ چونکہ انہیں ان کے حال کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اس لیے وہ انہیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ دوسروں کا یہ رویہ اگرچہ تمام تر حقیقت پر مبنی ہوتا ہے لیکن بزرگوں کے قصوں میں جینے والے لوگ اس کو اپنے سے کم تر سمجھ لیتے ہیں، اس لیے وہ خلاف واقعہ طور پر یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دوسرے لوگ سب کے سب ان کے دشمن ہیں۔
ایسے لوگ یا تو عمل نہیں کرتے۔ یا اگر وہ عمل کرتے ہیں تو ان کی منصوبہ بندی ہمیشہ اس مفروضہ پر ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ سب کے سب ان کے حق میں ظالم اور متعصب ہیں۔ ایسی منصوبہ بندی مبنی بر حقائق نہیں ہوتی، اور جو منصوبہ بندی مبنی بر حقائق نہ ہو، اس کے لیے خدا کی اس محکم دنیا میں کامیاب ہونا بھی مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues