Al-Risala · June 1995 · page

رسک لیجئے

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

رسک لیجئے

والٹر رسٹن نے کہا کہ نا کام ہو جانا کوئی جرم نہیں۔ اصل نا کامی یہ ہے کہ آدمی نا کامی سے سبق لینے میں ناکام رہے۔ جم برک جب جانسن اینڈ جانسن کے تجارتی ادارہ میں ایک نئے شعبہ کا افسر اعلیٰ مقرر ہوا تو اس کے ابتدائی منصوبوں میں سے ایک یہ تھا کہ بچوں کے سینہ کی مالش تیار کرے ۔

اس کا تیار کیا ہوا سامان بری طرح ناکام ہو گیا۔ برک کا خیال تھا کہ اس کو ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا۔ جب اس کو بورڈ کے چیرمین سے ملاقات کے لیے بلایا گیا تو یہ ملاقات اس کے لیے ایک اچنبھے کی ملاقات بن گئی۔ کیا تم ہی وہ شخص ہو جس نے ہمیں اتنی بڑی رقم کا نقصان پہنچایا ہے۔ چیرمین رابرٹ وڈجانسن نے اس سے سوال کیا۔ اور اس کے بعد کہا۔ بہت اچھا، میں تم کو صرف مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ اگر تم غلطیاں کر رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم رسک لے رہے ہو، اور ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک تم رسک نہ لو: Walter Wriston, former chairman of Citicorp, said, “Failure is not a crime. Failure to learn from failure is.” When Jim Burke became the head of a new products division at Johnson & Johnson, one of his first projects was the development of a children’s chest rub. The product failed miserably, and Burke expected that he would be fired. When he was called in to see the chairman of the board, however, he met a surprising reception. “Are you the one who just cost us all that money?” asked Robert Wood Johnson. “Well, I just want to con- gratulate you. If you are making mistakes, that means you are taking risks, and we won’t grow unless you take risks.”

موجودہ دنیا جن قوانین کی بنیاد پر چل رہی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کام کی کامیابی کے لیے جن عوامل کی موافقت درکار ہے وہ پیشگی طور پر کسی کو معلوم نہیں رہتے۔ ایسی حالت میں کسی اقدام کی واحد ممکن صورت یہ ہے کہ آئندہ پیش آنے والی باتوں کے بارہ میں بے خبری کے باوجود اقدام کیا جائے۔ اسی کا نام رسک ہے۔

رسک لینے میں بلاشبہ اندیشے ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں رسک لیے بغیر کوئی کام بھی نہیں کیا جا سکتا، اگر رسک نہیں تو کامیابی بھی نہیں۔

۱۵ رسال جون ۱۹۹۵

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page