Al-Risala · June 1995 · page

اصل کمزوری

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

اصل کمزوری

ایک صاحب نے اپنا ایک ذاتی واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے : غالباً ۱۹۸۲ کی بات ہے، حاجیوں کا جہاز " اکبر " حج کے بعد حاجیوں کا پہلا قافلہ لے کر بمبئی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ میں گودی پر گیا اور حج سے واپس آنے والے ایک ممتاز عالم دین سے لپٹ کر معانقہ کیا۔ پھر ان کے رفیق سفر کی بابت ان سے پوچھا تو حضرت مولانا نے بے رخی کے ساتھ جواب دیا : مجھے کیا معلوم ، کہاں ہیں، جہنم میں ہوں گے۔

پھر حاجیوں کی بھیڑ میں مذکورہ رفیق سفر کو بھی تلاش کر لیا جو ایک بڑے تاجر تھے۔ میں نے سلام و مصافحہ کے بعد ان سے پوچھا کہ مولانا کہاں ہیں۔ ہیں۔ انھوں نے غصہ میں جواب دیا : میں کیا جانوں، جہنم میں ہوں گے۔ جب یہ سب لوگ آکر ابو صدیق مسافر خانہ میں ٹھہرے تو الگ الگ دونوں سے کئی بار ملاقات ہوئی۔ پتہ چلا کہ سفر میں سامان اٹھانے اور لے جانے پر آپس میں تکرار شروع ہوئی ۔ اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ دونوں نے ایک دوسرے کو جہنم تک پہنچا دیا۔ (مولانا مختار احمد ندوی، البلاغ ، جون ۱۹۹۳)

بظاہر یہ ایک انوکھا واقعہ ہے۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق ، یہی موجودہ مسلمانوں کی عام حالت ہے۔ آج کل کے مسلمان کسی کے ساتھ صرف اس وقت تک اچھے ہیں جب تک کہ اس سے اختلاف نہ پیش آیا ہو۔ اختلاف پیش آتے ہی فی الفور دونوں ایک دوسرے کو، کم از کم اپنی حد تک جہنم رسید کر دیتے ہیں۔ خواہ وہ مذکورہ قسم کے الفاظ بولیں یا اس سے مختلف کچھ اور الفاظ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ آخری حد تک بے برداشت ہو گئے ہیں ، مسلم اور مسلم معاملات میں بھی ، اور ہندو اور مسلم معاملات میں بھی۔ وہ فرقہ وارانہ فسادات جن کی ذمہ داری ہم سرکاری انتظامیہ یا فرقہ پرست جماعتوں پر ڈال کر ہمیشہ مطمئن ہو جاتے ہیں، ان سب کا اصل سبب ہمیشہ مسلمانوں کی بے صبری ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں اگر صبر کی صفت آجائے تو فرقہ وارانہ فسادات کی جڑ کٹ جائے اور باہمی اختلافات کا بھی ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے ۔ یہی معاملہ دوسرے تمام مسائل کا بھی ہے۔ یہ بے صبری کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں اور دوبارہ صبر ہی کے ذریعہ انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page