صبر کا کرشمہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۵
اور وہ چھت تو کیا ، مسجد بھی توڑ کر رکھ دیں گے۔ اور کوئی انھیں روک نہ سکے گا۔ بلالی صاحب انھیں خیالات میں تھے کہ ہندو مجمع میں سے ایک بوڑھا آدمی آگے آیا۔ اس نے کہا کہ میاں جی ، اس وقت یہ لوگ بہت جوش میں ہیں۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تم ضد نہ کرو اور اپنی چھت اتار دو۔ بلالی صاحب نے فوراً اس کو استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بڑے میاں جس طرح تمہارے بڑے ہیں اسی طرح وہ میرے بھی بڑے ہیں۔ میں ان کی بات مانتا ہوں۔ اور اسی وقت اپنے مزدوروں سے کہہ دیا کہ چھت اتار دو چنا نچہ چھت اتار دی گئی۔ اس وقت تک اس چھت پر ۲۵ ہزار روپے خرچ ہو چکے تھے۔
اس واقعہ کا علاقہ کے تمام ہندوؤں پر بہت اچھا اثر پڑا۔ سب کے سب مسجد اور مسجد والوں کے ہمدرد بن گئے۔ اب یہاں لاؤڈ اسپیکر کی اذان کے ساتھ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ باقاعدہ جمعہ ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیم کا ایک مدرسہ چل رہا ہے۔ رمضان میں شاندار تراویح ہوتی ہے۔ وغیرہ۔ مگر ہندوؤں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں، وہ لوگ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ آپ کی کوئی ضرورت ہو تو ہم کو بتائیے۔ اگر کوئی ہندو آپ کو پریشان کرے تو فورا ہم کو بتائیے۔ ہم اس سے نمٹ لیں گے۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب یہ خبر پھیلی کہ اجودھیا کی بابری مسجد توڑ دی گئی۔ ساری دہلی میں تناؤ کی صورت پیدا ہوگئی۔ کئی جگہ ہندو مسلم فسادات بھی ہوئے ۔ اس علاقہ میں بھی تناؤ کی حالت تھی جبکہ اس وقت مسجد میں ۲۴ مسلم بچے موجود تھے۔
محمود سعید بلالی صاحب اس وقت جامع مسجد کے علاقہ میں تھے اور کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ مگر پڑوس کے ہندوان کا بدل بن گئے۔ وہ خود مسجد میں آئے۔ بچوں کو لے جاکر ایک قریبی اسکول میں رکھا۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اور پھر تمام بچوں کو حفاظت کے ساتھ ان کے گھروں تک پہنچایا۔
بلالی صاحب اگر ضد کرتے اور اکڑ دکھاتے تو دوسری طرف بھی ضد اور اکڑ پیدا ہوتی۔ اور پھر فساد برپا ہوجاتا۔ مگر جب انھوں نے نرمی اور تواضع کا انداز اختیار کیا تو دوسری جانب بھی نرمی اور تواضع پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد فساد کا ماحول امن کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues