Al-Risala · June 1995 · page

مواقع کی بربادی

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

مواقع کی بربادی

ہندوستان کا بٹوارہ دو قومی بنیاد پر ہوا۔ اس کے نتیجہ کے طور پر پاکستان میں مسلم اکثریت کو غلبہ حاصل ہوا اور وہاں اکثریتی اصول (majorityism) کا غلبہ عمل میں آیا۔ مگر ہندوستانی لیڈروں گاندھی اور نہرو وغیرہ نے اس کا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ انھوں نے منقسم انڈیا میں سیکولرزم کا نظام قائم کیا۔ پاکستان میں اکثریتی نظام کے قیام کے نتیجہ میں وہاں کی ہندو اکثریت کے لیے مسائل پیدا ہوئے مثلاً اپنی امتیازی شناخت کے ساتھ وہاں رہنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ مگر پاکستانی ہندوؤں نے ردعمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ انھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر غیر نمایاں (inconspicuous) بنالیا۔ انھوں نے اپنی ہندویت کو اپنے گھروں تک محدود کر لیا اور یکسوئی کے ساتھ تعلیم اور تجارت کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ اس طرح وہ ۳۰ سال تک خاموش عمل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اب پاکستان میں ان کے تمام معاملات درست ہو چکے ہیں۔ اب وہاں کا اکثریتی نظام ان کے لیے کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔

اس معاملہ میں انڈیا کی تصویر بالکل مختلف ہے: یہاں سیکولر نظام نے مسلمانوں کو وہ مواقع دیے جو ہندوؤں کو پاکستان میں نہیں ملے تھے۔ پاکستان میں اکثریتی نظام کے تحت ہندو وہاں کے قومی دھارے سے جدا کر دیے گئے تھے۔ جب کہ انڈیا میں سیکولر نظام کے تحت مسلمانوں کو یہ موقع مل رہا تھا کہ وہ برابر کے حصہ دار کی طرح یہاں کی قومی زندگی میں شریک ہو سکیں۔

مگر مسلمانوں کے نااہل رہ نما اس عمل میں رکاوٹ بن گئے۔ انڈیا میں سیکولر نظام کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہاں کوئی آئیڈیل نظام قائم ہو گیا ہے۔ یہ سیکولر نظام اسی دار الامتحان میں قائم ہوا تھا جہاں مختلف اسباب سے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ موافق پہلوؤں کے ساتھ کچھ ناموافق پہلو بھی ضرور موجودرہیں یہاں مسلمانوں کے رہنماؤں نے نہایت نادان کردار ادا کیا۔ وہ موافق پہلوؤں کو چھوڑ کر صرف ناموافق پہلوؤں کو ان کے سامنے نمایاں کرتے رہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انڈیا کے مسلمان مستقل طور پر جھنجلاہٹ اور مایوسی کا شکار رہے۔ اور تقریباً پچاس سال کی مدت ضائع ہوگئی۔ مسلمان جس طرح باہر کے ملکوں میں رہتے ہیں، اگر وہ اسی طرح انڈیا میں رہتے تو اب تک ان کے تمام مسائل اضافہ کے ساتھ حل ہو چکے ہوتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page