خدا کا قانون
الرسالہ، جون ۱۹۹۵
خدا کا قانون
یہ ایک دکان دار کا قصہ ہے۔ اس کے یہاں گھی کا کاروبار تھا۔ پہلے وہ ایک معمولی خوردہ فروش تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا کاروبار بڑھتا رہایہاں تک کہ وہ گھی کا ہول سیل بیوپاری بن گیا۔ اس کے یہاں ایک منیم جی (اکاؤنٹنٹ) تھے جو شروع سے ان کے یہاں کام کر رہے تھے۔ منیم جی کا دوپہر کا کھانا روزانہ ان کے گھر سے آیا کرتا تھا۔ ان کالڑکا روزانہ ٹفن کیریر میں کھانا لے کر آتا۔ یہ ٹفن کیریر پر غیر معمولی طور پر بڑا تھا۔ لوگ مذاق میں منیم جی سے کہا کرتے بیٹھے تم اکیلے کھانے والے ہو اور روزانہ دس آدمی کا کھانا گھر سے منگاتے ہو۔ یہ معمول برسوں تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک روز ایسا ہوا کہ ان کا لڑکا کھانے کے بعد ٹفن کیریر لے کر واپس جا رہا تھا کہ وہ دکان کی سیڑھی پر لڑکھڑا کر گر پڑا۔ اس کے ساتھ ہی ٹفن کیریر بھی گر گیا۔ اور سارے ڈبے کھل گئے۔ معلوم ہوا کہ ان تمام ڈبوں میں گھی بھرا ہوا تھا۔
دکان دار نے یہ منظر دیکھ لیا۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ منیم جی اتنے بڑے ٹفن کیریر میں کھانا کیوں منگاتے تھے۔ اس کے بعد وہ منیم جی کو لے کر اندر گو دام کے کمرے میں گیا۔ اس نے منیم جی سے کہا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ کتنے زیادہ کنستر یہاں میرے گو دام میں بھرے ہوئے ہیں۔ تمہارے ساتھ میرا تعلق شروع سے رہا ہے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ ۱۵ سال پہلے جب میں نے یہ کاروبار شروع کیا تو میرے پاس پونجی کم تھی۔ میں گھی کا صرف ایک کنستر لا کر اس کو پھٹ کر میں بیچتا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے میرا کاروبار بڑھا۔ یہاں تک کہ آج میں شہر کا ایک بڑا ہوں سیل ڈیلر ہوں۔ اب تم اپنی حالت کا اور میری حالت کا مقابلہ کرو۔ تم برسہا برس سے روزانہ اپنے ٹفن کیریر میں گھی بھر کر یہاں سے لے جا رہے ہو، مگر حال یہ ہے کہ تمہاری جو حالت پہلے تھی وہی حالت آج بھی ہے۔ اور اسی مدت میں مجھ کو خدا نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اب تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو کہ لٹنے والا فائدہ میں ہے یا لوٹنے والا۔
دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کو جس ڈھنگ سے بنایا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں صرف جائز کمائی کرنے والا ترقی کرے۔ ناجائز کمائی کرنے والا یہاں تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues