The World Congress of spiritual concord
الرسالہ، جون ۱۹۹۵
آج (۵ دسمبر) کے ہندوستان ٹائمس میں میرا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا تھا۔ سفر کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کو پڑھا تھا۔ چنانچہ اپنے آپ وہ زیر بحث آگیا۔
اس سلسلہ میں ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اسلام کا اصل کنسرن (concern) پاور نہیں ہے بلکہ فریڈم ہے۔ پولیٹکل ہیڈخواہ مسٹر اے ہوں یا مسٹر بی، اگر مسلمان کو قول وعمل کی آزادی حاصل ہے تو بس یہ اہل اسلام کے اطمینان کے لیے کافی ہے۔ پولیٹکل ہیڈ کا تعلق حقیقتہ انتظام یا بندوبست سے ہے۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر اور اسی طرح ہر شعبۂ حیا ت میں انتظامی بندوبست کے لیے کسی ایک کو ہیڈ بنانا پڑتا ہے۔ یہ ہیڈ ہر شخص نہیں ہو سکتا۔ اگر ہر آدمی ہیڈ بننا چاہے تو لامتنا ہی جھگڑا اور ٹکراؤ شروع ہو جائے گا۔ اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ حالات جس کو پولیٹکل ہیڈ کا درجہ دے دیں بقیہ لوگ اس کو مان کر اپنے اپنے دائرہ میں اپنی زندگی کی تعمیر میں لگ جائیں۔
میں نے کہا کہ تمام مسلم فقہاء اور مسلم علماء اس پر متفق ہیں کہ کسی مسلم حکمراں کا اقتدار جب عملاً قائم ہو جائے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حکمراں کو ہٹانے کی کوشش میں مزید خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔ اس کی توسیع کرتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ اسی طرح جب ایک غیر مسلم حکمراں کی حکومت قائم ہو جائے تو اس وقت تک اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جائے گی جب تک وہ لوگوں کو قول اور عمل کی آزادی دے رہا ہو۔
دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہم یوپی کے علاقہ میں داخل ہو گئے۔ سڑک کے دونوں طرف مختلف مناظر ایک کے بعد ایک گزر رہے تھے۔ دکانیں، مکانات، کارخانے، کھیت، باغات، یہ سب گویا انسانی سرگرمیاں تھیں جو مختلف صورتوں میں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے سوچا تو بظاہر مختلف سرگرمیوں کے درمیان ایک ہی داعیہ کام کر رہا تھا ، اور وہ اقتصادی انٹرسٹ کا داعیہ تھا۔ ہر آدمی اپنے اقتصادی مفاد میں لگا ہوا تھا، ہر آدمی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی معاشی ضروریات کے لیے دوڑ رہا تھا۔
آج کی دنیا میں لوگ اپنے معاملات میں اتنے زیادہ مصروف ہیں کہ ان کو دنیا کے بارہ میں خود سے معلوم کرنے کا کوئی وقت نہیں۔ لوگ دنیا کے بارہ میں صرف اخباروں کے ذریعہ معلومات
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues