Al-Risala · June 1995 · page

The World Congress of spiritual concord

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

بلند ہوں گی رفعت الا صوات فی المساجد) اگر اس حدیث سے لاؤڈ اسپیکر مراد ہو تو لاؤڈ اسپیکر ایک فقرہ ہے نہ کہ کوئی بہت پسندیدہ چیز۔

ہم یوپی کی پرشور اور گرد آلود سڑکوں سے گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ اعلان ہوا کہ یہ کتھولی ہے۔ یہاں ہم لنچ کے لیے ایک گھنٹہ رکیں گے۔ اس کے بعد ہماری بس سڑک سے مڑکر ایک بہت بڑے احاطہ میں داخل ہوئی۔ یہاں کثیر تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں ۔

باہر نکل کر دیکھا تو صحرا میں گویا ایک نخلستان کا منظر تھا۔ وسیع وعریض گارڈن کے درمیان ایک خوب صورت اور نئی بلڈنگ کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا چیتل گرینڈ : Cheetal Grand Motels Pvt. Ltd. یہ ایک جدید طرز کا ریسٹوراں تھا۔ عمارت نشست گاہیں، باتھ روم، ہر چیز بالکل نئے انداز پر بنی ہوئی تھی۔ چاروں طرف دور تک سر سبز و شاداب مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ صفائی بھی کامل درجے میں تھی۔ یہاں قافلہ کے تمام لوگوں نے کھانا کھایا۔ کھانا بھی نہایت صاف ستھرا تھا۔ میں نے وضو کیا اور لان کی گھاس پر ظہر کی نماز ادا کی۔ میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ایک اور صاحب آکر شریک ہو گئے! ۔ انھوں نے بتایا کہ میں سوئزر لینڈ سے آیا ہوں۔ میرا موجودہ نام عبد الصمد ہے، میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ پھر ایک مسلم صوفی سے متاثر ہو کر میں نے اسلام قبول کر لیا۔ بعد کو ان سے مزید گفتگو نہ ہو سکی۔

میں سمجھا تھا کہ یہ کسی بڑے ہندو کا ریسٹوراں ہوگا۔ مگر کھانے سے فارغ ہو کر میں کرسی پر بیٹھا تھا کہ ایک تندرست اور خوش پوش نوجوان میرے پاس آئے۔ انھوں نے میرا نام پوچھا۔ پھر انھوں نے کہا کہ میرا نام شارق رانا ہے۔ میں اور میرے بھائی واثق نثار اس ریسٹوراں کے مالک ہیں۔ یہ ریسٹوراں دہلی مسوری روڈ پر واقع ہے اور نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔

اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ ریسٹوراں ہندوستانی مسلمانوں کے نئے فیصلے کی علامت ہے۔ ایک عرصہ تک انڈیا کو مسائل کا ملک سمجھنے کے بعد اب یہاں کے مسلمانوں نے جان لیا ہے کہ انڈیا بہترین مواقع کا ملک ہے۔ انھوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اس ملک کے امکانات کو استعمال کر کے آگے بڑھیں گے، یہاں تک کہ ترقی کی آخری منزل تک پہنچ جائیں گے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page