Al-Risala · June 1995 · page

The World Congress of spiritual concord

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

دہلی میں سڑکیں اچھی تھیں۔ مگر یوپی کے علاقہ کی سڑکیں نا ہموار معلوم ہوئیں۔ مسلسل گاڑی میں جھٹکے لگتے رہے ۔ مجھے سر میں درد اور چکر پیدا ہو گیا جو آخر وقت تک باقی رہا۔ اس کی وجہ سے مجھے سخت پریشانی ہوئی۔ میں سوچتا رہا کہ یہ سر کا چکر جو بظاہر دکھائی بھی نہیں دیتا، وہ مجھ کو اتنا پریشان کیے ہوئے ہے کہ اس کے ساتھ اگر دنیا کا سب سے اچھا محل مجھے رہنے کے لیے دے دیا جائے تو اس کے اندر مجھے ایک سیکنڈ کے لیے بھی خوشی اور سکون نہیں ملے گا۔ صحت و عافیت کی زندگی بھی اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے۔ دہلی سے ہمارا قافلہ تین اسپشل بسوں کے ذریعہ رشی کیش کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس میں زیادہ تر بیرونی ملکوں کے لوگ تھے ۔ روس، جرمنی، سوئزرلینڈ، امریکہ وغیرہ سے مختلف مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ دہلی میں جمع ہوئے اور پھر یہاں سے ایک قافلہ کی صورت میں رشی کیش کے لیے روانہ ہوئے۔ رڑکی تک کا سفر اچھا گزرا۔ اس کے بعد سڑک زیادہ اچھی نہ تھی۔ ایک جگہ پل ٹوٹنے کی وجہ سے سواریوں کو سڑک کے نیچے اتار کر کچے راستہ سے گزارا جا رہا تھا۔ ایک جگہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے کافی دیر تک رکنا پڑا۔ اس طرح سفر متعَب بھی ہو گیا اور طویل بھی۔ زندگی کا آغاز خواہ کتنے ہی ہموار حالات میں شروع کیا جائے، درمیان میں ناموافق حالات کا پیش آنا ضروری ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ اس کو پست ہمتی سے بچانے کا ذریعہ بن جائے۔

ہم لوگ رڑکی میں داخل ہوئے تو گرجا سے ٹن ٹن کی آواز آ رہی تھی۔ پہلے میں نے سمجھا کہ یہ ہاتھی کی آواز ہے۔ قریب ہوا تو ایک قدیم چرچ سڑک کے کنارے دکھائی دیا۔ اب میں نے جانا کہ یہ چرچ کے گھنٹے کی آواز ہے۔

دوسرے مذاہب میں عبادت کے وقت کے اعلان کے لیے گھنٹے یا اسی قسم کی کسی اور چیز کا رواج ہے۔ غالباً اسلام واحد مذہب ہے جس میں با معنیٰ منادی کلمات کو دہراکر عبادت کے وقت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ دوسرے مذاہب کا اعلان صرف اعلان ہے۔ جب کہ اسلام نے اعلان کے ساتھ دعوت کا پہلو بھی شامل کر دیا ہے۔

راستہ میں کئی جگہ شوگر مل دکھائی دی۔ اونچی چمنیاں دھواں اڑاتے ہوئے اپنے وجود کا اعلان کر رہی تھیں۔ اس کے قریب دور تک گنے سے لدی ہوئی گاڑیاں اپنی باری کے انتظار میں کھڑی ہوئی تھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page