Everyone of us is a part of the great whole.
الرسالہ، جون ۱۹۹۵
ولی اگسٹ (8106-33903 (0) .Tel) یورپ میں پیس تھر و کلچر کے پریذیڈنٹ ہیں۔ اور نہایت زندہ دل آدمی ہیں۔ وہ اگرچہ روانی کے ساتھ انگریزی بول رہے تھے ۔ مگر انھوں نے کہا: مجھے انگریزی نہیں آتی۔ بس کام چلانے کے لیے بول لیتا ہوں۔
ایک سوامی جی نے ”حقیقت“ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے ہر شخص ایک عظیم کل کا ایک جزو ہے:
Everyone of us is a part of the great whole.
میں نے کہا کہ یہ حقیقت کا وہ بیان ہے جو آریائی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ مگر سامی مذاہب کا بیان اس سے مختلف ہے ۔ سامی مذاہب کے نزدیک ہم اور کائنات کی دوسری تمام چیزیں خالق کی مخلوق ہیں نہ کہ خالق کا جزو۔ پہلی تشریح میں خالق ہم سے الگ نہیں ہے ، جب کہ دوسری تشریح میں خالق مکمل طور پر ہم سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتا ہے۔
ایک صاحب سے بات ہوئی ۔ وہ مجھ کو جانتے نہیں تھے۔ انھوں نے مذاق کے اننداز میں کہا کہ ہندو ازم زیادہ پرانا مذہب ہے اور اسلام کی تمام باتیں ہندو ازم میں موجود ہیں۔ پھر آپ لوگ ہندو ازم کو کیوں نہیں لے لیتے۔ اس طرح آسانی سے ریلیجس ہارمنی پیدا کی جاسکتی ہے۔
میں نے کہا کہ اگر میں اس کو الٹ کر یہ کہوں کہ اسلام زیادہ لیٹسٹ ہے اور مذہب کا ریوانزڈ ایڈیشن ہے ، اس لیے دوسرے قدیم مذہب والوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کو اختیار کر لیں۔ اس طرح وہ ناقص کو چھوڑ کر کامل کو پالیں گے ، تو آپ میری اس بات کے جواب میں کیا کہیں گے۔ وہ مسکرا کر خاموش ہوگئے ۔ اس طرح کی باتیں مختلف لوگوں سے ہوتی رہیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو ایسی آواز تو بہت اپیل کرتی ہے جس میں اپنی موجودہ جگہ چھوڑے بغیر کوئی کریڈٹ مل رہا ہو۔ مثلاً موجودہ کانگریس میں ہر آدمی اپنے مذہب کے ساتھ شریک ہو رہا ہے۔ اپنے مذہب سے ہٹے بغیر اس کو ایک نیا اطمینان حاصل ہو رہا ہے کہ اس نے عالمی روحانی اتحاد کے لیے کام کیا۔ مگر ایک ایسی آواز کو اپیل نہیں کرتی جس میں اس کو اپنی موجودہ پوزیشن چھوڑنی پڑے۔
مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آخر کار رات کو ۹ بجے میں پر مارتھ نکیتن آشرم میں پہنچا جہاں مجھ کو ٹھہرنا تھا۔ یہ انڈیا کا سب سے بڑا آشرم ہے اور سوامی چید اند اس کے چیر مین ہیں۔ یہاں شام کا کھانا کھایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues