Al-Risala · January 1995 · page 29

Why have I lost my teeth?

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹

میرا ذہن مسلسل ان کے الفاظ کو اپنی یادداشت سے وابستہ کرتے ہوئے انھیں سمجھتا جارہا تھا۔ میں نے سوچا کہ دین فطرت کی دعوت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہر آدمی کے لاشعور میں خدا کے دین کا تصور پیشگی طور پر موجود ہے۔ جب ایک داعی خدا کے دین کو بے آمیز روپ میں پیش کرتا ہے تو انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کا تصور پہلے سے میرے ذہن میں موجود تھا۔ اپنے تصور اور خارجی واقعہ کی یہ مطابقت اس کے لاشعور کو شعور بنادیتی ہے، وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کا اعتراف کر کے خدا کے بندوں میں شامل ہوجائے۔ راستہ میں ایسٹ لندن کی مسجد تھی۔ عین سڑک کے کنارے کا فی بڑی اور شاندار مسجد ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ پارک روڈ پر پہنچے تو وہاں لندن کی مرکزی مسجد تھی ۔ یہ مسجد اور مرکز عربوں نے تعمیر کرایا ہے۔ یہاں ٹھہر کر اندر داخل ہوئے۔ یہ بہت بڑے رقبہ میں واقع ہے۔ مسجد کا اندرونی حصہ جو ایک بڑے گنبد کے نیچے ہال کی مانند ہے، اس کو میں نے ناپا تو ایک طرف ۳۶ قدم اور دوسری طرف ۴۰ قدم تھا۔

یہاں دو رکعت تحمیتہ المسجد پڑھی۔ نماز پڑھتے ہوئے ایک عجیب احساس ہوا۔ میرے دل نے کہا کہ تحیتہ المسجد دراصل تحیۃ الخالق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا کے مناظر سے گزر رہا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے مسجد آتی ہے جو خدا کا عبادت خانہ ہے۔ اس وقت مسجد گویا خاموش زبان میں کہتی ہے کہ خدا کے عظمت و جلال کا اعتراف کرو۔ اس احساس اعتراف کو لئے ہوئے آدمی مسجد کے اندر داخل ہوتا ہے اور بے تابانہ طور پر خدا کے سامنے گر جاتا ہے۔ مسجد کے صحن میں دو ترک کھڑے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس پر عطیہ کے کپڑے اور کمبل لدے ہوئے ہیں اور وہ بوسنیا کے ستم رسیدہ مسلمانوں کے لئے بھیجے جارہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ بوسنیا کے حادثہ کے بعد ساری دنیا کے مسلمانوں نے جتنے بڑے پیمانے پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، اگر یہی ہمدردی وہ اس سے پہلے بوسنیا میں تبلیغ کے لئے کرتے تو وہاں کے مسلمانوں کی تعداد ۴۴ فیصد سے بڑھ کر شاید ۸۳ فیصد ہو جاتی اور پھر اس قسم کے حادثہ کی جڑ کٹ جاتی۔ مگر مسلمان قومی جذبہ کے تحت خرچ کرنا جانتے ہیں، وہ دعوتی جذبہ کے تحت خرچ کرنا نہیں جانتے۔ ۲۷ ستمبر کو برٹش ایرویز کی فلائٹ ۱۵۵ کے ذریعہ لندن سے قاہرہ روانہ ہونا تھا۔ ساری

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page