Al-Risala · June 1995 · page

Everyone of us is a part of the great whole.

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

کی پرستش کا رواج رہا ہے۔ سورج، چاند، پہاڑ، درخت، دریا، ہر چیز میں ایک ایسی روح کو مانا جاتا ہے جس کے اندر پُر اسرار صفات اور طاقتیں موجود ہیں۔ اسی لیے ان چیزوں کو پوجا جاتا ہے تاکہ ان کے اندر جو روح ہے اس کی برکت حاصل کی جائے۔ اسی عقیدہ کے تحت گنگا کو بھی پوجا جاتا ہے کیونکہ اس میں دیوی کی روح سمائی ہوئی ہے۔

اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے برطانیہ کا مقالہ نگار کہتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی کچھ غیر خدائی چیزوں کی پرستش کا رواج ہے۔ مثلاً ساؤتھ ایشیا کے مسلمان اپنے پیروں کو پوجتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے قرآن میں کوئی سند موجود نہیں :

...a practice for which there is no authority in the Qur'an (17/129)

رشی کیش کی یہ سات روزہ کانگریس ایک روسی تنظیم کے تحت ہوئی۔ اس کا نام ہے ــــــــــــ امن بذریعہ کلچر کی بین اقوامی جماعت :

The International Association Peace Through Culture. یہ تنظیم ماسکو میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی نکولائی رورش (Nikolai K. Roerich) تھے۔ وہ ۱۸۷۴ء میں ماسکو میں پیدا ہوئے اور ۱۹۴۷ء میں بنگلور میں ان کا انتقال ہوا۔ اس کے موجودہ روسی صدر والنتن سدوروف (Valentin M Sidorov) ہیں۔ اس تنظیم کی پہلی عالمی کانگریس الماتا (قزاقستان) میں ۱۹۹۲ء میں ہوئی تھی۔ دوسری عالمی کانگریس دسمبر ۱۹۹۳ء میں رشی کیش میں ہوئی۔ اس کی شاخیں اکثر مغربی ملکوں میں قائم ہیں۔ ان کاخاص پیغام یہ ہے کہ دنیا کا بڑھتا ہوا تشددروحانی بیماری (spiritual illness) کی بنا پر ہے۔ دنیا کے مسائل کو روحانی طاقت (spiritual energy) کے ذریعہ سے دور کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ایک شمع روشن کردی جائے : It is far better to light a lamp than to curse the darkness. رشی کیش کی یہ کانگریس اصلاً میڈیٹیشن (مراقبہ) کے لیے ہوئی تھی۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگوں نے جمع ہو کر اپنے اپنے مذہبی طریقہ کے مطابق میڈیٹیشن کا مظاہرہ کیا۔ روس سے آئے ہوئے ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام میں عبادت کا تصور ہے، میڈیٹیشن کا تصور اسلام میں نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page