Al-Risala · June 1995 · page

Dhikr is the Muslim form of meditation or Dhyan.

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

مذکورہ پروگراموں کے علاوہ روحانی پینٹنگ کے نمونے دکھائے گئے ۔ 11 دسمبر کو یوگا وغیرہ کے پروگرام۔ ساتھ شرکار نے اپنے اپنے تاثرات مختصر طور پر بیان کیے۔ ۱۲ دسمبر کو مختلف مندر دکھائے گئے اور الوداعی تقریب ہوئی۔

یہ مختصر طور پر اس کانگریس کی روداد تھی۔ تاہم یہ ایک عملی نوعیت کی کانگریس تھی۔ اس کا اندازہ صرف اس کو دیکھ کر ہو سکتا ہے، کاغذی رپورٹ سے اس کا صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس اسپرچول کانگرس میں تقریباً ۲۰۰ آدمی مختلف ملکوں سے آئے ہوئے تھے۔ روس ، جرمنی ،سوئزرلینڈ، امریکہ، وغیرہ ۔ تقریباً نصف تعداد ہندوستانی تھی اور نصف تعداد بیرونی۔ سب کے سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ ان میں سکھ ازم، ہندوازم، جین ازم، بدھرم، مسیحیت وغیرہ ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ کئی لوگوں سے مذہبی عقائد کے موضوع پر گفت گو ہوئی۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ کسی مذہب میں پیدا ہوئے ہوں ان کو ایک دو ملاقاتوں میں کوئی نئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔

حدیث میں ہے کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچپن سے ایک خاص ماحول میں رہے رہتے آدمی کی سوچ کنڈیشنڈ ہو جاتی ہے۔ کسی اور نقطہ نظر کو وہ بچرا نہیں پاتا۔ اس لیے ضرورت ہے کہ لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ملنا جلنا ہو۔ مختلف مواقع پر تبادلۂ خیال ہوتا رہے۔ اسی کے ساتھ مطالعہ کا سلسلہ بھی جاری ہو۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھل سکتے ہیں۔ کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ایک گفتگو یا ایک ملاقات نے پوری بات سمجھ جائیں۔ اور اس کا اعتراف بھی کر لیں۔ مگر ایسے لوگ تاریخ میں بہت کم پائے گئے ہیں۔ زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو کسی نئی بات کو دیر سے ہی سمجھتے ہیں۔

سوامی چید انند رشی کیش کے پرمار تھ نکیتن آشرم کے چیر مین ہیں۔ یہ انڈیا کا سب سے بڑا آشرم ہے۔ اس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سوامی جی کا آفس جو کئی کشادہ کمروں پر مشتمل ہے، بالکل جدید طرز پر بنا ہوا ہے۔ وہ جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں تین ٹیلی فون رکھے ہوئے ہیں جس کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی ہے۔ ہندوستان کے مختلف مضافات سے، اس کے علاوہ یورپ، آسٹریلیا، امریکہ سے ٹیلیفون آتے رہتے ہیں۔ سوامی جی اس بات کی ایک زندہ مثال ہیں کہ موجودہ زمانہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ نیز یہ کہ کس طرح ایک آدمی ایک کمرہ میں بیٹھ کر ساری دنیا سے مربوط رہ سکتا ہے۔ وہ ایک مقام پر بیٹھ کر جدید مواصلاتی ذرائع سے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page