Al-Risala · June 1995 · page 42

Analogy is the weakest form of argument.

الرسالہ، جون ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲

مگر وہ بدستور مثال کی زبان میں بولتے رہے۔ میں نے کہا، اچھا، اب اپنا دوسرا پوائنٹ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ دوسرا فرق یہ ہے کہ اسلام میں تو صرف ایک پیغمبر نے کہا جو کچھ کہا۔ مگر ویدوں کی فلاسفی سیکڑوں رشیوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ ویدک سسٹم میں ایک کے بعد ایک سیکڑوں رشیوں نے حقیقت کا تجربہ کیا۔ اس طرح اسلام شخص واحد کی معرفت پر بیس کرتا ہے جب کہ ویدک سسٹم انسانوں کے ایک مجموعہ کے عارفانہ تجربات پر مبنی ہے۔

میں نے کہا کہ مسئلہ ایک کا اور کئی کا نہیں ہے بلکہ اصل بات کے استناد (authenticity) کا ہے۔ پیغمبر خدائی الہام کے حوالے سے بولتا ہے۔ اس لیے اس کا کلام مستند ریفرنس پر قائم ہوتا ہے۔ جب کہ رشی اور منی ذاتی تجربہ کے حوالے سے بولتے ہیں۔ اس قسم کے ذاتی تجربات کے سلسلہ میں اصل سوال اس کا استناد ثابت کرنے کا ہے، وہ آپ کس طرح ثابت کریں گے۔

اب سوامی جی نے دوبارہ مثالیں دینا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ رشیوں نے زبردست تپسیا کی۔ وہ دکھ جھیلنے (suffering) کے کورس سے گزرے۔ اس طرح انھوں نے سفرنگ کے راستہ سے معرفت حاصل کی۔ انھوں نے مثال دی کہ آپ کو کھانا بنانا ہے تو آپ یہ کریں گے کہ ایک برتن میں چاول، دال، پانی وغیرہ ڈال کر اس کو تیز آنچ پر پکائیں گے۔ اس طرح آگ پر پک کر وہ آپ کے کھانے کے قابل بن جائے گا۔ اسی طرح آدمی جب تلاش کی آگ میں جلتا ہے تو وہ گیان حاصل کر لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ سفرنگ اور دریافت میں کیا رشتہ ہے۔ آپ کو دونوں کے درمیان منطقی رشتہ بتانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی آپ کی بات ثابت شدہ قرار پائے گی۔ کیوں کہ مثال کسی ثابت شدہ بات کی مزید وضاحت میں کارآمد ہو سکتی ہے۔ مگر خود اصل بات کو ثابت کرنے کے لیے مثال قطعاً کار آمد نہیں۔

مگر یہ لوگ مثالوں کی زبان میں بولنے کے اتنے زیادہ عادی ہو چکے ہیں کہ وہ سائنٹفک یا منطقی زبان میں اپنی بات پیش کرنا جیسے جانتے ہی نہیں ۔ میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اچھا، اب اپنا اگلا پوائنٹ بتائیے۔

انھوں نے کہا کہ ویدک مذہب کی ایک عظیم خصوصیت اس کی لامحدود آزادی ہے۔ آپ آستک ہوں یا ناستک، آپ کنزرویٹو ہوں یا لبرل، آپ مورتی پوجا کو مانیں یا نہ مانیں۔ غرض جو بھی آپ کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page