Analogy is the weakest form of argument.
الرسالہ، جون ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱
سابقہ علماء کی طرح موجودہ علماء اور رہنماؤں کو بھی ایک رجوع کی ضرورت ہے۔ اب تک وہ اپنی تحریک مطالبہ غیر کی بنیاد پر چلا رہے تھے۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ اپنی تحریک کو تعمیرِ خویش کی بنیاد پر چلائیں جلسوں اورمظاہروں کی دھوم مچانے کے بجائے وہ صرف داخلی استحکام پر اپنی ساری توجہ لگا دیں۔ رشی کیش سے دہلی تک دو تعلیم یافتہ ہندو میرے ساتھ تھے۔ سوامی وشومترا (۵۰ سال) اور پنڈت راجیو اگنی ہوتری (۲۵ سال) ان لوگوں سے مذہبی موضوعات پر مسلسل باتیں ہوتی رہیں۔ سوامی وشومترا ساوتھ انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے پوری گفتگو انگریزی میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اسلام پر بہت کم چیزیں پڑھی ہیں۔ بنگلور میں ایک مسلمان نے مجھ کو ایک انگریزی کتاب پڑھنے کے لیے دی تھی۔ اس کو میں نے پورا پڑھا۔ اس کتاب کو پڑھ کر میں متاثر تو نہیں ہوا۔ البتہ مجھ کو غصہ بہت آیا۔
یہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب رسالہ دینیات کا انگریزی ترجمہ تھا۔ سوامی جی نے اس کتاب کو پڑھ کر کئی صفحات میں اس پر انگریزی میں اپنا تبصرہ لکھ رکھا تھا۔ اس کو انہوں نے اپنے کپڑے کے بیگ سے نکالا۔ اور اس کے مختلف حصے مجھے بتانے شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے مذہب کی بڑائی کو جانتے ہیں مگر وہ دوسروں کے مذہب کی بڑائی کو نہیں جانتے :
People know the greatness of their own religions, they don't know the greatness of other's religions. میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اسلام میں پرافٹ ہوتے ہیں اور ہندوازم میں رشی ہوتے ہیں۔ رشیوں کا درجہ پرافٹ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرافٹ کی مثال اس شخص کی ہے جو سمندر کے کنارے کھڑے ہوئے ٹاور پر چڑھ کر سمندر کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مگر رشی ٹاور سے سمندر کو دیکھنے کے بعد خود سمندر میں اترے۔ انہوں نے اس کو چکھا اور اس کا تجربہ کیا (they tested and tasted it) میں نے کہا کہ آپ مثال کی زبان استعمال نہ کریں بلکہ حقیقت کی زبان میں تقابل کریں۔ کیوں کہ نہ تو پیغمبر کسی لائٹ ہاوس پر چڑھے اور نہ رشیوں نے کسی سمندر میں غوطہ لگایا۔ اس طرح کی مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کا طریقہ استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے :
Analogy is the weakest form of argument.
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues