Analogy is the weakest form of argument.
الرسالہ، جون ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴
تمہارا دوست بن جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی آپ کا امکانی دوست ہے۔ نفرت اور دشمنی یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ اوپر سے کوئی غیر انسان دکھائی دے رہا ہو تب بھی اندر سے وہ انسان ہی ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پہلے زمانے میں دھرم کا پرچار بہت کم تھا۔ اتنے ست سنگ نہیں ہوتے تھے۔ پھر بھی شانتی تھی۔ اب ہر طرف دھرم کا پرچار ہے۔ ہر جگہ ست سنگ کی دھوم ہے۔ مگر شانتی غائب ہے۔ یہ سوال میں نے کئی لوگوں سے کیا مگر ابھی تک مجھے اثر نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا اپنا خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے من میں ایک اثر ہے، اور وہ یہ کہ پہلے کہنی اور کرنی ایک تھی۔ اب کہنی اور کرنی میں مُنت بھید ہو گیا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ آج مذہب کے نام پر بہت برگمیاں دکھائی دیتی ہیں مگر یہ ویسی ہی ہیں جیسے دوسری تجارتی سرگرمیاں۔ موجودہ زمانہ کے نئے حالات نے مذہب میں دنیوی انٹرسٹ کا پہلو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ آج مذہب میں پیسہ بھی ہے۔ لیڈری اور عہدہ بھی۔ عزت اور شہرت بھی ہے۔ دنیا کی سیر بھی ہے۔ چنانچہ لوگوں نے مذہب کے نام پر بھی وہی کچھ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے جس کو پہلے زیادہ تر دنیا کے نام پر حاصل کیا جاتا تھا۔
دہلی پہنچ کر ہماری گاڑی پہلے پر نار ٹیکس آشرم گرین پارک) میں رکی۔ یہاں ڈاکٹر کے ایل سیتا گیری راؤ عارضی طور پر مقیم تھے۔ وہ امریکہ کے ورجینیا یونی ورسٹی میں تقابلی مذہب کے پروفیسر ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک ان سے مفید ملاقات رہی۔ وہ اس سے پہلے میری کئی چیزیں پڑھتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے تعجب انگیز خوشی (Pleasant surprise) کا احساس اس پر ہوتا ہے کہ آپ اتنی زیادہ ہوش مندی (sanity) کی بات کرتے ہیں اور پھر بھی آپ اتنے زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ یہ آپ کو زمانہ کے لحاظ سے ایک استثنائی نعمت حاصل ہے۔
آج ہی کے ٹائم آئیڈیا ( دسمبر ) میں میرا ایک مضمون چھپا تھا جس کا عنوان تھا : Time ripe to end Ayodhya dispute. انھوں نے اس مضمون کو دیکھا اور میرے نقطۂ نظر سے اتفاق کیا۔ اس پر اور دوسرے موضوعات پر ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ میں سچا مذہبی آدمی وہ ہے جو سائنس داں ہو، اور سچا سائنس داں وہ ہے جو مذہبی ہو۔ انھوں نے کہا :
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues