Photo: courtesy of British Airways - Image Bank.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱
قاہرہ ایئر پورٹ پر کچھ عرب حضرات موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر جدید قاہرہ پہنچا۔ اس وقت ۲۸ ستمبر کا سورج نکل چکا تھا۔ سفر اگر معمول کے مطابق طے ہوتا تو میں ۲۷ ستمبر کو عشاء کی نماز قاہرہ میں پڑھتا مگر جہاز کی خرابی کی وجہ سے ۲۸ ستمبر کی فجر کی نماز کے وقت بھی میں قاہرہ نہ پہنچ سکا۔
کرسٹوفر کولمبس یورپ اور انڈیا کے درمیان بحری راستہ معلوم کرنے کے لئے نکلا۔ مگر اس کا سمندری جہاز بھٹک کر امریکہ کے ساحل پر پہنچ گیا۔ وہ یورپ سے انڈیا آنے کا راستہ تو معلوم نہ کر سکا۔ مگر اس نے نئی دنیا (امریکہ) کو معلوم کر لیا۔ یہ ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ء کا واقعہ ہے۔ آج کولمبس کے نام کے ساتھ یہ لکھا جاتا ہے کہ وہ پہلا شخص ہے جس نے امریکی براعظم کو دریافت کیا۔ مگر کولمبس کی اپنی زندگی میں اس کو کوئی عظمت یا قدر دانی حاصل نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ ۲۰ مئی ۱۵۰۶ء کو وہ مایوسی اور گم نامی کی حالت میں اسپین کے ایک مقام پر مر گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پندرہویں صدی کے یورپی تاجروں کی اصل خواہش یہ تھی کہ وہ انڈیا پہنچنے کا آسان راستہ معلوم کریں۔ کیوں کہ انڈیا کو وہ اپنی تجارت کے لئے بہت مفید سمجھتے تھے۔ انڈیا سے وہ تمباکو، سونا اور مسالہ وغیرہ لے کر جاتے تھے اور اس کو فروخت کر کے بڑے بڑے منافع حاصل کرتے تھے۔ اس وقت امریکہ سے تجارتی فائدے قائم نہیں ہوئے تھے۔ یورپی تاجروں کے لئے اس وقت امریکہ کی دریافت صرف ایک بے فائدہ دریافت کے ہم معنی تھی۔
کولمبس کے بعد واسکوڈی گاما بھی انڈیا کا بحری راستہ تلاش کرنے کے لئے نکلا۔ اس کا جہاز ۲۰ مئی ۱۴۹۸ء کو کالی کٹ کے ساحل پر پہنچ گیا۔ اس نے ہندوستان کا سمندری راستہ دریافت کر لیا۔ اس کے بعد یورپ میں واسکوڈی گاما کو تو ہیرو کا مقام حاصل ہو گیا۔ اور کولمبس کے متعلق یہ تصور ہو گیا کہ وہ ایک بے وقوف آدمی ہے۔ برسوں کی محنت کے بعد بھی وہ حقیقی معنوں میں کوئی نفع بخش چیز حاصل نہ کر سکا۔
ایک اخبار میں کولمبس کے تذکرہ کے تحت لکھا تھا کہ اس کی موت کو کسی نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سولہویں صدی کے وسط تک بھی اس کی دریافت کی اہمیت سمجھی نہ جاسکی۔ یہاں تک کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues